سینیٹر فیصل واوڈا کے ایک سخت اور متنازع بیان نے ملک بھر میں سیاسی بحث کو ایک بار پھر تیز کر دیا ہے۔
انہوں نے گزشتہ تین دہائیوں کی سیاست پر شدید تنقید کی اور کہا کہ اگر ماضی کے 30 برسوں میں کردار ادا کرنے والے چند سو نہیں بلکہ ہزاروں سیاستدانوں کا کڑا احتساب کیا جائے تو ملک کو درپیش بیشتر مسائل خود بخود حل ہو سکتے ہیں۔ ان کے اس بیان کو مختلف حلقوں میں نہ صرف غیر معمولی بلکہ اشتعال انگیز بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ گزشتہ تیس سال میں ملک کو جن بحرانوں کا سامنا رہا، ان کے ذمہ دار محدود تعداد میں وہ سیاسی عناصر ہیں جنہوں نے ذاتی مفادات کو قومی مفاد پر ترجیح دی۔ ان کے بقول، اگر 500 سے 5000 ایسے سیاستدانوں کو نشانِ عبرت بنایا جائے تو نظام درست سمت میں آ سکتا ہے۔ انہوں نے یہ بات زور دے کر کہی کہ ان کا مقصد تشدد کی حمایت نہیں بلکہ ایک سخت مثال کی طرف اشارہ کرنا ہے تاکہ مستقبل میں کوئی قانون سے بالاتر نہ رہے۔
اس سے قبل سینیٹر فیصل واوڈا نے صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے ملاقات بھی کی، جس میں ملکی سیاسی صورتحال، پارلیمانی امور اور باہمی دلچسپی کے مختلف موضوعات زیرِ بحث آئے۔ اس ملاقات کو موجودہ سیاسی تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب آئینی ترامیم اور سیاسی مفاہمت پر گفتگو جاری ہے۔
پی ٹی آئی کی جارحانہ پالیسی کے ردعمل میں گورنر راج کی تیاریاں تیز، سینیٹر فیصل واوڈا
ٹی وی پروگرام کے دوران فیصل واوڈا نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ 28ویں آئینی ترمیم ناگزیر ہے اور یہ ترمیم ضرور آئے گی۔ ان کے مطابق اس ممکنہ ترمیم کے ذریعے نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ سمیت دیگر اہم معاملات کو تمام فریقین کی مشاورت اور رضامندی سے حل کیا جائے گا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں سیاسی قیادت ذاتی اختلافات سے بالاتر ہو کر قومی مفاد میں فیصلے کرے گی۔
دوسری جانب، فیصل واوڈا کے اس بیان پر سیاسی جماعتوں، قانونی ماہرین اور سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے ملا جلا ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ کئی ناقدین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے بیانات معاشرے میں عدم برداشت کو فروغ دیتے ہیں، جبکہ کچھ حلقے اسے محض سخت زبان میں احتساب کے مطالبے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ بہرحال، یہ بیان ایک بار پھر اس سوال کو زندہ کر گیا ہے کہ پاکستان میں احتساب، سیاست اور آئینی اصلاحات کا مستقبل کس سمت جا رہا ہے۔
