دہشتگردی میں افغانستان ملوث نہیں تو کون ہے؟ فیصل کنڈی کا سوال

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

پشاور: گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے صوبے میں بڑھتی ہوئی دہشتگردی، سکیورٹی صورتحال اور ضم اضلاع کے فنڈز کے استعمال پر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ پشاور میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس کے دوران گورنر کے پی نے نہایت دوٹوک انداز میں سوال اٹھایا کہ اگر دہشتگردی میں افغانستان ملوث نہیں تو پھر آخر اس کے پیچھے کون ہے؟

latest urdu news

دہشتگردی پر وزیراعلیٰ سے براہِ راست سوال

فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ صوبے میں پولیس اہلکار، فرنٹیئر کانسٹیبلری، پاک فوج کے جوان اور عام شہری مسلسل دہشتگرد حملوں میں شہید ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت واضح کرے کہ یہ حملے کون کر رہا ہے اور دہشتگرد کہاں سے آ رہے ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ عالمی برادری پہلے ہی اس حقیقت کو تسلیم کر چکی ہے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے، ایسے میں حقائق سے آنکھیں چرانا خطرناک ہو سکتا ہے۔

ضم اضلاع کے فنڈز اور کارکردگی پر سوالات

گورنر کے پی نے ضم شدہ قبائلی اضلاع کے لیے مختص فنڈز پر بھی سنگین سوالات اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ وفاق کی جانب سے مکمل فنڈز نہیں ملے، لیکن جو رقم دی گئی وہ کہاں خرچ کی گئی؟
انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ 13 برسوں میں صوبائی حکومت کی کارکردگی صفر رہی ہے اور ضم اضلاع میں بنیادی سکیورٹی ڈھانچہ تک قائم نہیں کیا جا سکا۔ فیصل کنڈی کے مطابق ان علاقوں میں نہ تو نئے تھانے بنائے گئے اور نہ ہی پولیس کو مناسب وسائل فراہم کیے گئے۔

جنرل فیض کی سزا سیاست میں مثبت تبدیلی کی شروعات ہے، گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی

سکیورٹی کو اولین ترجیح بنانے کا مطالبہ

فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں تیل اور گیس جیسے قدرتی وسائل موجود ہیں، مگر ان سے فائدہ اٹھانے کے لیے امن و امان بنیادی شرط ہے۔ انہوں نے وزیراعلیٰ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کی وکالت کے بجائے صوبے کے عوام کے جان و مال کے تحفظ پر توجہ دی جائے۔

پاک فوج کی قربانیوں کا اعتراف

گورنر کے پی نے پاک فوج اور سکیورٹی فورسز کی قربانیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہی قربانیوں کے باعث آج دنیا پاکستان کی دفاعی اور سکیورٹی صلاحیتوں کو تسلیم کر رہی ہے۔ ان کے مطابق عالمی سطح پر پاکستان کے ساتھ سرمایہ کاری اور کاروبار میں دلچسپی بڑھ رہی ہے، جو امن و استحکام سے جڑی ہوئی ہے۔

سیاسی کشیدگی میں اضافہ

فیصل کریم کنڈی کے بیان کے بعد صوبائی حکومت اور وفاقی نمائندوں کے درمیان سیاسی تناؤ میں مزید اضافہ متوقع ہے۔ سکیورٹی، دہشتگردی اور ضم اضلاع کے مسائل ایک بار پھر خیبر پختونخوا کی سیاست کا مرکزی موضوع بن گئے ہیں، جن پر آنے والے دنوں میں مزید بحث دیکھنے میں آ سکتی ہے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter