ڈاکٹر وردہ قتل کیس: ملزمان کا ایف آئی اے میں کوئی مالی یا سائبر کرائم ریکارڈ نہیں ملا

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

پشاور: ڈاکٹر وردہ قتل کیس میں ایف آئی اے نے پولیس کو بھیجے گئے جواب میں واضح کیا ہے کہ کیس کے نامزد ملزمان عبدالوحید، ندیم اور ردا جدون کا کوئی مالی یا سائبر کرائم ریکارڈ موجود نہیں ہے۔

latest urdu news

ایف آئی اے کی رپورٹ کے اہم نکات

ایف آئی اے کے مطابق:

  • ملزمان کے خلاف کوئی منی لانڈرنگ یا مالی جرائم کا ریکارڈ موجود نہیں۔
  • نامزد ملزمان کے خلاف کوئی FIR یا انکوائری زیر التوا نہیں ہے۔
  • نہ ہی ملزمان سے متعلق کوئی خفیہ یا انٹیلی جنس معلومات دستیاب ہیں۔

یہ معلومات ڈی پی او ایبٹ آباد کی درخواست کے بعد ایف آئی اے کی جانب سے فراہم کی گئی۔ پولیس نے ایف آئی اے سے ملزمان کے ممکنہ مشکوک مالی لین دین، سفری تفصیلات اور واچ لسٹ/اسٹاپ لسٹ اسٹیٹس طلب کی تھی تاکہ کیس کے تفتیشی زاویے مزید واضح ہو سکیں۔

ملزمان کا سفری ریکارڈ

خط میں مزید کہا گیا کہ ملزمان کے سفری ریکارڈ اور واچ لسٹ/اسٹاپ لسٹ کی معلومات کے لیے ایف آئی اے ہیڈکوارٹر سے رجوع کیا جائے۔ اس اقدام کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ملزمان کسی غیر قانونی یا مشکوک سرگرمی میں ملوث تو نہیں اور انہیں ملک یا بیرون ملک سے تعلق رکھنے والی کسی ممکنہ خطرناک سرگرمی سے جوڑا جا سکے۔

پس منظر

ڈاکٹر وردہ قتل کیس پاکستان میں ایک سنگین واقعہ کے طور پر سامنے آیا، جس میں مقتولہ ڈاکٹر وردہ کی قتل کی تحقیقات میں مختلف زاویے زیر غور ہیں۔ پولیس اور ایف آئی اے کے مابین یہ تعاون کیس کی شفاف اور مؤثر تحقیقات کے لیے انتہائی اہم ہے۔

اس رپورٹ سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملزمان کی مالی اور سائبر سرگرمیوں میں کوئی شواہد موجود نہیں، تاہم کیس کے دیگر پہلوؤں پر تحقیقات جاری ہیں، جس میں شواہد کی تصدیق، قانونی کارروائی اور ممکنہ شواہد کی بازیابی شامل ہے۔

یہ پیش رفت اس بات کا ثبوت ہے کہ پولیس اور ایف آئی اے کیس کی ہر ممکن زاویے سے جانچ کر رہے ہیں تاکہ قاتلوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter