ڈالر کے 250 روپے سے نیچے آنے کے مضبوط امکانات، ملکی معیشت بہتری کی جانب گامزن: ملک بوستان

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان (ای سی اے پی) کے چیئرمین ملک بوستان نے پیش گوئی کی ہے کہ مستقبل قریب میں امریکی ڈالر پاکستانی روپے کے مقابلے میں مزید کم ہو سکتا ہے اور اس کے 250 روپے سے نیچے آنے کے قوی امکانات موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حالیہ معاشی اور دفاعی پیش رفتیں روپے کی قدر میں نمایاں بہتری کا باعث بن رہی ہیں۔

latest urdu news

ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ملک بوستان نے کہا کہ پاک فوج کی جانب سے تیار کردہ جے ایف 17 تھنڈر لڑاکا طیاروں کی عالمی منڈی میں بڑھتی ہوئی مانگ پاکستان کے لیے نہایت مثبت اشارہ ہے۔ ان کے مطابق اس وقت کم از کم 15 ممالک جے ایف 17 طیاروں کی خریداری میں دلچسپی لے رہے ہیں، جس کے نتیجے میں دفاعی برآمدات میں اضافہ ہوگا اور زرمبادلہ ملک میں آئے گا، جو براہِ راست ڈالر کی قدر میں کمی کا سبب بنے گا۔

ملک بوستان نے کہا کہ روپے کی قدر میں بہتری صرف ایک وجہ کی مرہونِ منت نہیں بلکہ اس کے پیچھے کئی عوامل کارفرما ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ دفاعی برآمدات میں اضافہ، اسٹاک مارکیٹ کی شاندار کارکردگی اور معاشی سرگرمیوں میں بہتری نے مجموعی طور پر سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کیا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں غیر معمولی تیزی دیکھنے میں آئی ہے، جہاں انڈیکس 46 ہزار پوائنٹس سے بڑھ کر تقریباً ایک لاکھ 85 ہزار پوائنٹس تک پہنچ چکا ہے، جو معیشت میں بہتری کا واضح ثبوت ہے۔

ای سی اے پی چیئرمین نے بتایا کہ گزشتہ چھ ماہ کے دوران ڈالر کی قدر میں نمایاں کمی آئی ہے۔ ان کے مطابق ڈالر جو ایک وقت میں 290 روپے سے بھی اوپر چلا گیا تھا، اب کم ہو کر تقریباً 281 روپے کی سطح پر آ چکا ہے، یعنی تقریباً 9 روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ انہوں نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ روپے کا موجودہ استحکام عارضی ہے، اور کہا کہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی حقیقی قدر 250 روپے سے بھی کم بنتی ہے۔

عالمی بینک کی پاکستان کے لیے بڑی مالی معاونت، 700 ملین ڈالر کی فنانسنگ منظور

ملک بوستان نے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق 2022 میں ملک کے ذخائر خطرناک حد تک کم ہو کر 3 ارب ڈالر سے بھی نیچے آ گئے تھے، تاہم اب یہ ذخائر بڑھ کر تقریباً 22 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں، جو ایک بڑی معاشی کامیابی ہے۔

حکومت پر تنقید کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماضی میں ملکی معیشت شدید مشکلات کا شکار رہی اور اسے تقریباً تباہ شدہ حالت سے نکالنا آسان نہیں تھا۔ ان کے مطابق معیشت کی بحالی ایک تدریجی عمل ہے اور اس میں وقت لگنا فطری امر ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ چند سال قبل ڈالر کے 500 روپے تک پہنچنے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے تھے، جبکہ اب صورتحال بدل چکی ہے اور توقعات 250 روپے یا اس سے بھی کم سطح کی طرف جا رہی ہیں، جو ملکی معیشت کے لیے ایک حوصلہ افزا پیش رفت ہے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter