ملک کے مختلف حصوں میں شدید دھند کے باعث شہری اور ٹرانسپورٹ کے نظام متاثر ہو گئے ہیں۔ سندھ، پنجاب اور خیبرپختونخوا کے متعدد علاقوں میں دھند کی وجہ سے موٹرویز بند کر دی گئی ہیں اور ٹریفک کی روانی معطل ہے۔ اس کے علاوہ لاہور میں دھند کے اثرات کے باعث فلائٹ شیڈول بھی جزوی طور پر متاثر ہوا، جس سے بیرون ملک جانے والی متعدد پروازیں تاخیر کا شکار ہیں۔
موٹرویز اور حدِ نگاہ کی صورتحال
شدید دھند کے سبب ملک کی اہم شاہراہوں پر حدِ نگاہ انتہائی کم ہو گئی ہے، جس کی وجہ سے متعدد موٹرویز بند کی گئی ہیں:
- ایم 2: ٹھوکر نیاز بیگ سے چکری تک
- ایم 3: فیض پور سے درخانہ تک
- ایم 4: پنڈی بھٹیاں سے شیرشاہ تک
- ایم 5: شیر شاہ سے سکھر تک
- ایم 14: انجرا سے عیسیٰ خیل تک
سیہون سے لاڑکانہ کے راستے پر مختلف مقامات پر حدِ نگاہ صرف 10 سے 30 میٹر رہ گئی ہے، جس سے ٹریفک کا معمولی بہاؤ بھی دشوار ہو گیا ہے۔
فلائٹ آپریشنز اور شہری مشکلات
لاہور ایئرپورٹ پر دھند کے باعث فلائٹ آپریشنز جزوی طور پر متاثر ہوئے ہیں۔ بیرون ملک روانہ ہونے والی کئی پروازیں تاخیر کا شکار ہیں، جس سے مسافروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ حکام نے مسافروں کو اضافی وقت نکال کر ایئرپورٹ پہنچنے کی ہدایت دی ہے تاکہ دھند کے باعث ہونے والی تاخیر سے بچا جا سکے۔
پاکستان میں سردی کی شدید لہر، ہنزہ میں منفی 20 ڈگری ریکارڈ
حادثات اور حفاظتی اقدامات
دھند کے شدید اثرات کے باعث سڑک حادثات بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔ خاص طور پر سمہ سٹہ کے قریب دھند کے سبب ٹرک کی ٹکر سے ایک موٹر سائیکل سوار جاں بحق اور دو افراد زخمی ہو گئے۔ حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ دھند کے دوران سفر میں احتیاط برتیں، گاڑیوں کی رفتار کم رکھیں اور ضرورت نہ ہونے پر سفر مؤخر کریں۔
حکومتی اقدامات اور انتباہات
ٹریفک حکام اور موٹروے پولیس نے دھند کے اثرات کو کم کرنے کے لیے اضافی نفری تعینات کی ہے اور موٹرویز کی بندش کے متعلق شہریوں کو آگاہ کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق دھند کی شدت اگلے 24 سے 48 گھنٹوں تک جاری رہ سکتی ہے، اس لیے شہریوں کو محتاط رہنا اور حفاظتی اصولوں پر عمل کرنا لازمی ہے۔
یہ صورتحال ملک کے مختلف حصوں میں ٹریفک، ہوائی سفر اور روزمرہ زندگی کو متاثر کر رہی ہے اور عوام کو اپنی حفاظت کے لیے اضافی احتیاط اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔
