وزیر دفاع خواجہ آصف نے مسنگ پرسنز کے مسئلے پر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پورا معاملہ ایک منظم فراڈ ہے، جس کے ذریعے دہشتگرد تنظیمیں خود کو انسانی حقوق کے لبادے میں چھپانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ سیالکوٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حکومت پورے ملک سے دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے پُرعزم ہے۔
مسنگ پرسنز اور بی ایل اے کا تعلق
خواجہ آصف کے مطابق زیادہ تر لاپتہ افراد کا تعلق کالعدم تنظیم بی ایل اے سے ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب یہ افراد سکیورٹی فورسز کے آپریشنز میں مارے جاتے ہیں تو بعد میں یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ ان کے نام لاپتہ افراد کی فہرستوں میں شامل تھے۔ وزیر دفاع نے دعویٰ کیا کہ بعض خاندان لاپتہ افراد کے نام پر مالی الاؤنس بھی وصول کرتے رہے ہیں، جبکہ دہشتگرد تنظیمیں خواتین اور کم عمر بچوں کو بھی اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہیں۔
حالیہ حملے اور بیرونی مداخلت
وزیر دفاع نے بتایا کہ حالیہ دہشتگرد حملوں میں دو مقامات پر خواتین کو بطور ہتھیار استعمال کیا گیا۔ ان کے مطابق گرفتار دہشتگردوں کے بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ ان کارروائیوں میں بھارت ملوث ہے اور بی ایل اے ایک غیر ملکی فنڈڈ دہشتگرد تنظیم ہے، جس کے نیٹ ورک دیگر ممالک تک پھیلے ہوئے ہیں۔ انہوں نے بھارت اور افغانستان پر زور دیا کہ وہ بی ایل اے اور ٹی ٹی پی جیسی تنظیموں کو بطور فرنچائز استعمال کرنا بند کریں۔
بلوچستان میں 17 سکیورٹی اہلکار شہید، 145 دہشتگرد ہلاک: سرفراز بگٹی
بلوچستان میں سکیورٹی صورتحال
خواجہ آصف نے بلوچستان میں حالیہ واقعات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ کوئٹہ کے علاقے سریاب روڈ، دالبندین میں ایف سی ہیڈ کوارٹر اور نوشکی سمیت 12 مختلف مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔ ان کے مطابق دہشتگرد بھاری نقصان اٹھا کر فرار ہوئے، جبکہ سکیورٹی فورسز اب بھی آپریشنز میں مصروف ہیں۔
سیاسی ذمہ داری اور قومی اتحاد
وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کی مذمت نہ کرنے والے سیاسی عناصر بالواسطہ طور پر سہولت کار بن جاتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ دہشتگردی کے خلاف سیاسی قیادت میں کسی قسم کا اختلاف نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ اس جنگ میں تمام صوبوں کے بچے اور بچیاں قربانیاں دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام سیاسی جماعتیں اپنے مفادات سے بالاتر ہو کر ملک اور مٹی سے محبت کو ترجیح دیں۔
یہ مؤقف حکومت کے اس بیانیے کی عکاسی کرتا ہے جس کے تحت مسنگ پرسنز کے معاملے کو قومی سلامتی اور دہشتگردی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، جبکہ سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کو ریاستی بقا کے لیے ناگزیر قرار دیا جا رہا ہے۔
