کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ جنرل سید عامر رضا نے کہا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج ملکی سرحدوں اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں اور سرحد پار سے ہونے والی دراندازی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کے دفاع اور سلامتی کو یقینی بنانا افواج پاکستان کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے یہ بات پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول، ایبٹ آباد میں پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے کہی، جہاں انہوں نے تربیت مکمل کرنے والے کیڈٹس اور ان کے والدین کو مبارک باد بھی دی۔
قومی سلامتی اور دفاع کی بھاری ذمہ داری
جنرل سید عامر رضا نے کیڈٹس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اب ان کے کندھوں پر ملک کی سلامتی، وقار اور تحفظ کی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ نوجوان افسران اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں آنے والے چیلنجز کا بہادری اور حوصلے کے ساتھ مقابلہ کریں۔
ان کے مطابق دیانت داری، بہادری اور جرات قیادت کے بنیادی اصول ہیں، جنہیں عملی زندگی میں اپنانا ضروری ہے۔ انہوں نے کیڈٹس پر زور دیا کہ وہ قومی سلامتی کے تحفظ اور ملکی دفاع میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔
خواتین کیڈٹس کی شرکت باعثِ افتخار قرار
کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ نے پاسنگ آؤٹ پریڈ میں خواتین کیڈٹس کی شرکت کو باعثِ افتخار قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ افواج پاکستان نے مختلف شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا ہے۔
انہوں نے اس موقع پر مسلح افواج کی پیشہ ورانہ تیاری اور ملکی دفاع کے لیے خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ فوج کے جوان ملک کے تحفظ کے لیے اپنی جانوں کی قربانیاں دے رہے ہیں۔
فتنۃ الخوارج کی سرحدی دراندازی ناکام، 25 دہشت گرد ہلاک، پاک فوج کے 5 جوان شہید
علاقائی کشیدگی میں پاکستان کے کردار کا ذکر
جنرل سید عامر رضا نے خطے کی حالیہ کشیدہ صورت حال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے عالمی سطح پر مثبت کردار ادا کیا ہے۔ ان کے مطابق خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کی جانب سے ادا کیے گئے ثالثی کے کردار کو عالمی سطح پر دیکھا گیا۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سرحدی سلامتی اور ملکی دفاع کے معاملات میں کسی قسم کی غفلت کی گنجائش نہیں، جبکہ افواج پاکستان ہر طرح کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔
فلسطین اور کشمیر کے مسائل پر مؤقف
اپنے خطاب میں جنرل سید عامر رضا نے فلسطین میں انسانی حقوق کی پامالی بند کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کشمیر کو بھی ایک حل طلب عالمی مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جانا چاہیے۔
ان کے خطاب میں قومی سلامتی، پیشہ ورانہ قیادت، علاقائی استحکام اور عالمی تنازعات کے حل سے متعلق پاکستان کے مؤقف کو اجاگر کیا گیا۔ انہوں نے کیڈٹس کو یاد دلایا کہ ملکی دفاع کے ساتھ ساتھ دیانت داری، ذمہ داری اور جرات بھی ایک کامیاب فوجی قیادت کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔
