پارٹی میں مشاورت کا عمل موجود ہے، مگر فیصلہ کن اختیار نواز شریف کے پاس ہے: اعظم نذیر تارڑ

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے واضح کیا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) میں مشاورت کا باقاعدہ نظام موجود ہے، تاہم حتمی اور فیصلہ کن اختیار پارٹی قائد نواز شریف کے پاس ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی کے اندر تمام معاملات پر تفصیلی غور و فکر کیا جاتا ہے، سینئر قیادت کی آرا سنی جاتی ہیں، مگر آخری فیصلہ نواز شریف کی قیادت میں ہی کیا جاتا ہے۔

latest urdu news

جیو نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ محمود خان اچکزئی ایک سینئر اور تجربہ کار سیاست دان ہیں اور نواز شریف ہمیشہ اپنے پرانے ساتھیوں کی عزت اور قدر کرتے ہیں۔ ان کے مطابق سیاست میں تجربہ اور تسلسل کی بڑی اہمیت ہوتی ہے، اسی لیے مسلم لیگ (ن) اپنے اتحادیوں اور سینئر رہنماؤں کو ساتھ لے کر چلنے پر یقین رکھتی ہے۔

وفاقی وزیر قانون نے اپوزیشن لیڈر کی تقرری کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آئین اور قانون میں اپوزیشن لیڈر کے انتخاب کا واضح طریقہ کار موجود ہے۔ انہوں نے بتایا کہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کی تقرری اسپیکر قومی اسمبلی کی سربراہی میں آئینی تقاضوں کے مطابق مکمل کی گئی، جس میں کسی قسم کی غیرقانونی یا غیرآئینی بات شامل نہیں تھی۔

اعظم نذیر تارڑ نے مزید کہا کہ سینیٹ میں بھی اپوزیشن لیڈر کی تقرری کا معاملہ جلد حل ہو جائے گا۔ ان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے حلف اٹھانے کے فوراً بعد سیاسی جماعتوں کے درمیان مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا تھا تاکہ ملک کو درپیش سنگین مسائل کا مشترکہ حل تلاش کیا جا سکے۔

عمران خان سے ملاقاتوں کا معاملہ عدالت اور جیل حکام کے درمیان ہے، اعظم نذیر تارڑ

انہوں نے کہا کہ حکومت کی خواہش رہی ہے کہ سیاسی اختلافات کو ایک طرف رکھ کر معیشت کے حوالے سے قومی اتفاق رائے پیدا کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ چند افراد کی رہائی جیسے معاملات کو بنیاد بنا کر قومی مفاد کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے، کیونکہ عوام نے سیاسی جماعتوں کو اپنے مسائل کے حل اور بہتری کے لیے ووٹ دیا ہے۔

جیل میں ملاقاتوں کے معاملے پر بات کرتے ہوئے وزیر قانون نے کہا کہ یہ ایک خالصتاً قانونی مسئلہ ہے۔ ان کے مطابق سزا یافتہ شخص کو اسی لیے جیل میں رکھا جاتا ہے تاکہ وہ روزمرہ سیاسی سرگرمیوں میں مداخلت نہ کر سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جو کام براہِ راست ممکن نہیں ہوتا، وہ بالواسطہ طور پر بھی نہیں کیا جا سکتا۔

اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے سپریم کورٹ کے واضح فیصلے موجود ہیں جن کے مطابق سزا یافتہ شخص ملکی سیاست نہیں چلا سکتا۔ انہوں نے اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہر سیاسی معاملے میں بانی پی ٹی آئی سے مشاورت کی بات سمجھ سے بالاتر ہے، اپوزیشن کو یہ ادراک ہونا چاہیے کہ سیاسی امور بھی آئینی اور قانونی دائرے میں رہ کر ہی انجام دیے جاتے ہیں۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter