آئین ایک وعدہ ہے، اسے توڑا گیا تو رشتے خراب ہوں گے: محمود خان اچکزئی

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

اپوزیشن اتحاد تحریکِ تحفظِ آئین پاکستان کے رہنما اور قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ آئین محض ایک قانونی دستاویز نہیں بلکہ ریاست اور عوام کے درمیان ایک وعدہ ہے، اور اگر اس وعدے کو توڑا گیا تو ریاستی رشتے متاثر ہوں گے۔ انہوں نے یہ بات جامشورو میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کے دوران کہی۔

latest urdu news

جامشورو جلسے میں خطاب

جلسے سے خطاب کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتوں پر پابندی کو غیرانسانی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جمہوری معاشرے میں اختلافِ رائے اور سیاسی روابط پر قدغن لگانا مسائل کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ حکمرانی میں تمام اکائیوں کو برابر کا حصہ ملنا چاہیے اور ملک میں بولی جانے والی تمام زبانوں اور ثقافتوں کا احترام ضروری ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ خارجہ پالیسی جیسے اہم معاملات پارلیمنٹ کے ذریعے طے ہونے چاہئیں، کیونکہ منتخب ایوان ہی عوامی رائے کا حقیقی نمائندہ ہوتا ہے۔ ان کے مطابق خطے کی موجودہ صورتحال کے پیشِ نظر ایک جامع گول میز کانفرنس بلائی جانی چاہیے تاکہ تمام اسٹیک ہولڈرز کی آرا سامنے آ سکیں۔

آئین کی حیثیت اور سیاسی ہم آہنگی

محمود خان اچکزئی نے اپنے خطاب میں ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ آئین ایک اجتماعی وعدہ ہے، جس کی پاسداری سے ہی قومی یکجہتی برقرار رہ سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئینی اصولوں سے انحراف نہ صرف سیاسی عدم استحکام کو جنم دیتا ہے بلکہ اداروں اور عوام کے درمیان اعتماد کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔

تمام سیاسی جماعتیں دستخط کریں، عمران خان سے خود کروا لوں گا: محمود خان اچکزئی

حیدرآباد میں میڈیا سے گفتگو

بعد ازاں حیدرآباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ نظام مجموعی طور پر درست ہے، مسئلہ اسے چلانے کی نیت کا ہے۔ ان کے مطابق ملک کو درست سمت میں چلانے کے لیے ضروری ہے کہ تمام قومیتوں اور طبقات کو حکمرانی میں شریک کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ “کھوٹے سکوں کو ہٹانے” کے لیے ایک منظم اور پرامن سیاسی تحریک کی ضرورت ہے۔

گول میز کانفرنس اور سیاسی لہجہ

محمود خان اچکزئی نے تجویز دی کہ تین دن کی گول میز کانفرنس منعقد کی جائے، جس میں سب فریقین ایک دوسرے کی بات سنیں اور قومی مسائل کا حل تلاش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کی سیاست گالی گلوچ پر مبنی نہیں۔ نواز شریف اور آصف علی زرداری سے متعلق انہوں نے کہا کہ ان کے ساتھ ذاتی نوعیت کا کوئی تنازع نہیں، اور اگر وہ آئیں تو انہیں چائے پلانا ان کے لیے باعثِ خوشی ہوگا۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter