پاکستان میں سردی کی شدید لہر جاری ہے اور ملک کے شمالی و وسطی علاقوں میں درجہ حرارت انتہائی کم سطح پر پہنچ گیا ہے۔ خاص طور پر گلگت بلتستان کے علاقے ہنزہ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 20 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جو گزشتہ کئی سالوں میں سب سے کم درجہ حرارت کے قریب ہے۔ اس سردی کی شدت نے مقامی نظامِ زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے، جبکہ دیگر شہروں میں بھی درجہ حرارت معمول سے کافی کم ہے۔
ملک کے دیگر شہروں میں درجہ حرارت کی صورتحال
عالمی موسمی ویب سائٹ کے مطابق اتوار کی صبح مختلف شہروں میں درجہ حرارت درج ذیل رہا:
- کوئٹہ: منفی 1 ڈگری
- اسلام آباد: 2 ڈگری
- لاہور: 3 ڈگری
- پشاور: 4 ڈگری
- کراچی: 7 ڈگری
گلگت بلتستان کے ہنزہ اور استور کے بالائی علاقوں میں خون جماتی سردی کے باعث رہائشیوں اور سیاحوں کے لیے حالات دشوار ہیں۔ مقامی انتظامیہ نے عوام سے احتیاط برتنے کی ہدایت دی ہے، جبکہ سردی کی شدت کے سبب مواصلات اور روزمرہ زندگی بھی متاثر ہو رہی ہے۔
پنجاب میں تعلیمی اداروں کی چھٹیوں میں ایک ہفتے کی توسیع
تعلیمی اداروں میں اوقات کار اور تعطیلات میں تبدیلی
سرد موسم کے اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے مختلف صوبوں نے تعلیمی اداروں کے اوقات کار اور تعطیلات میں تبدیلی کی ہے:
- سندھ: وزیر تعلیم سندھ نے نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے اسکولوں میں صبح 9 بجے کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ تبدیلی پیر سے 26 جنوری تک نافذ العمل رہے گی۔
- پنجاب: سردی کی شدت اور عوامی مشاورت کے بعد پنجاب میں تعلیمی اداروں کی تعطیلات میں توسیع کی گئی ہے۔ ترجمان وزارت تعلیم پنجاب کے مطابق اسکول اب 19 جنوری سے کھلیں گے۔
یہ اقدامات بچوں اور اساتذہ کو شدید سردی کے اثرات سے بچانے کے لیے کیے گئے ہیں تاکہ وہ محفوظ ماحول میں تعلیم حاصل کر سکیں۔
سردی کے اثرات اور عوامی احتیاط
ماہرین موسمیات کے مطابق سردیوں کی اس لہر کا تسلسل اگلے چند دنوں تک رہنے کا امکان ہے۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سردی سے بچاؤ کے لیے گرم کپڑے استعمال کریں، کمزور اور بزرگ افراد کا خاص خیال رکھیں اور غیر ضروری طور پر باہر نکلنے سے گریز کریں۔ حکومت نے بھی حفاظتی اقدامات اور ایمرجنسی سہولیات کو فعال رکھنے کی ہدایت دی ہے تاکہ موسم کی شدت سے پیدا ہونے والے خطرات کم سے کم ہوں۔
یہ سردی کی شدت ملک کے شمالی اور وسطی علاقوں میں جاری ہے، اور شہریوں کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔
