وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے عوام کو سڑکوں میں جاری کھدائی کی وجہ سے ہونے والی تکلیف پر معذرت کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہریوں کی سہولت کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے۔
وزیراعلیٰ نے ہدایت دی کہ فلٹر پلانٹس سے متعلق عوامی شکایات فوری طور پر دور کی جائیں اور متاثرہ علاقوں میں واٹر فلٹریشن پلانٹس ترجیحی بنیادوں پر نصب کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ واٹر بوٹلنگ پلانٹس اور واٹر فلٹریشن پلانٹس کی تعمیر و بحالی 30 جون تک مکمل کی جائے۔ خاص طور پر ڈیرہ غازی خان، خوشاب، رحیم یار خان اور بہاولپور میں گھر کی دہلیز پر صاف پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ علاوہ ازیں، لاہور کینال کی بھل صفائی اور بارش کے بعد پانی کے نکاس کے اہداف بھی مقرر کر دیے گئے ہیں۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ روڈ بحالی کے 1529 منصوبوں کے تحت 4031 کلومیٹر سڑکوں کی تعمیر اور مرمت کی جائے گی۔ "مثالی گاؤں پراجیکٹ” کے تحت پنجاب کے 224 دیہات میں کام شروع ہو چکا ہے، جبکہ 469 دیہات میں واٹر سپلائی، چلڈرن پارکس اور اسٹریٹ لائٹس نصب کی جائیں گی۔ منصوبوں کی مؤثر نگرانی کے لیے لائیو ڈیش بورڈ قائم کرنے کی بھی ہدایت دی گئی ہے۔
پیسہ ہر صوبے کے پاس ہے، صرف کام کرنے کی نیت اور ارادے کی کمی ہے: مریم نواز
وزیراعلیٰ نے لاہور ڈویلپمنٹ پراجیکٹ کے پہلے فیز کی تکمیل اور دوسرے فیز کو 30 اپریل تک مکمل کرنے کی ہدایت دی۔ مزید کہا گیا کہ سات شہروں میں جاری ڈویلپمنٹ پراجیکٹس اپریل تک مکمل ہوں، اور پی ایچ اے کی مالی خودمختاری اور اثاثوں کی تفصیلات کے بعد ریسورس جنریشن پلان بنایا جائے۔
اجلاس میں "اپنی چھت، اپنا گھر” پراجیکٹ کی دوسری قسط فوری جاری کرنے کا اعلان کیا گیا، جس کے تحت روزانہ 700 مکانات تعمیر کیے جا رہے ہیں۔ 52 شہروں میں 204 ارب روپے کی لاگت سے نئے تعمیر و مرمت کے منصوبے 22 فروری تک شروع ہوں گے، جبکہ ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس اور فلٹر پلانٹس کی مرمت اور واٹر فلٹریشن پلانٹس 30 جون تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
