وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ انہیں اپنے قائد اور سابق وزیرِاعظم عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہ دینا انتہائی افسوسناک، شرمناک اور غیر انسانی اقدام ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی صحت کے حوالے سے پوری قوم تشویش میں مبتلا ہے اور اس معاملے پر حکومتی رویہ سنگین سوالات کو جنم دے رہا ہے۔
اسلام آباد میں کے پی ہاؤس میں پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات شوکت یوسفزئی سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ وہ ساڑھے چار کروڑ عوام کے منتخب نمائندے ہیں، اس کے باوجود انہیں اڈیالہ جیل کے باہر گھنٹوں انتظار کرایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان سے نہ صرف سیاسی قیادت بلکہ اہلِ خانہ کو بھی ملاقات کی اجازت نہ دینا بنیادی انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ عمران خان کی صحت سے متعلق واضح معلومات سامنے نہ آنا باعثِ تشویش ہے اور قوم یہ جاننے کا حق رکھتی ہے کہ سابق وزیرِاعظم کی طبی حالت کیا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ موجودہ حکومت ملک چلانے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے، عدلیہ سمیت ریاستی ادارے مفلوج ہو گئے ہیں جبکہ مہنگائی، بے روزگاری اور کسانوں کے مسائل میں خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کی غلط پالیسیوں کے باعث ملک سنگین معاشی اور سیاسی بحران کا شکار ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وفاق خیبر پختونخوا کے واجب الادا بقایاجات ادا نہیں کر رہا جس کے باعث صوبے کو ترقیاتی عمل میں مشکلات کا سامنا ہے، تاہم اس کے باوجود صوبائی حکومت ترقی کا سفر جاری رکھے ہوئے ہے۔
عمران خان کی صحت سے متعلق پھیلائی گئی باتیں بے بنیاد ہیں، محمود اچکزئی کا مؤقف
انہوں نے کہا کہ ملک میں جمہوریت اور آئین کو بے بس بنا دیا گیا ہے، لیکن پی ٹی آئی جمہوریت اور آئینی بالادستی کی بحالی کے لیے اپنی پُرامن سیاسی جدوجہد جاری رکھے گی۔
اس موقع پر شوکت یوسفزئی نے بھی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ عمران خان کو قیدِ تنہائی میں رکھنا جیل مینوئل اور انسانی حقوق دونوں کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت عوام کے دباؤ اور سچ سے خوفزدہ ہے، اسی لیے عمران خان کی بیماری اور ان کے علاج سے متعلق معلومات کو خفیہ رکھا جا رہا ہے۔
شوکت یوسفزئی نے مطالبہ کیا کہ عمران خان کے ذاتی معالجین، اہلِ خانہ، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اور وکلا کو فوری ملاقات کی اجازت دی جائے تاکہ قوم کو حقیقت سے آگاہ کیا جا سکے۔ ملاقات میں 8 فروری کے ممکنہ پُرامن احتجاج سمیت ملکی و صوبائی سیاسی صورتحال پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، جبکہ صوبائی مشیر اطلاعات شفیع جان بھی اس موقع پر موجود تھے۔
