پاکستان نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کو باضابطہ طور پر دہشت گرد تنظیموں کی عالمی پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا جائے۔ یہ مطالبہ پاکستان کے مستقل مندوب برائے اقوامِ متحدہ عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کے دوران کیا، جس کا موضوع دہشت گردی کے عالمی امن و سلامتی پر اثرات تھا۔
اپنے خطاب میں عاصم افتخار احمد نے کہا کہ افغانستان میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد خطے میں دہشت گردی کے خطرات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق بیرونی سرپرستی اور غیر ملکی مالی معاونت سے چلنے والے پراکسی دہشت گرد گروہوں کو نئی توانائی ملی ہے، جن میں فتنۃ الخوارج تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور فتنۃ الہندوستان بلوچ لبریشن آرمی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان گروہوں کی سرگرمیاں نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہیں۔
پاکستانی مندوب نے واضح کیا کہ یہ دہشت گرد تنظیمیں افغان سرزمین سے تقریباً مکمل استثنیٰ کے ساتھ کارروائیاں کر رہی ہیں اور انہیں پاکستان کے مشرقی ہمسائے کی فعال حمایت بھی حاصل ہے۔ ان کے مطابق یہی وجہ ہے کہ یہ گروہ پاکستان کے اندر نہایت سفاک اور سنگین دہشت گرد حملوں میں ملوث ہیں، جن کا مقصد ریاستی رٹ کو کمزور کرنا اور عام شہریوں میں خوف و ہراس پھیلانا ہے۔
بلوچستان میں 17 سکیورٹی اہلکار شہید، 145 دہشتگرد ہلاک: سرفراز بگٹی
عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کو آگاہ کیا کہ محض گزشتہ ہفتے بلوچ لبریشن آرمی نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کیے گئے متعدد دہشت گرد حملوں کی ذمہ داری خود قبول کی، جن کے نتیجے میں 48 معصوم اور بے گناہ شہری شہید ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ واقعات اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ بی ایل اے ایک منظم اور خطرناک دہشت گرد نیٹ ورک کے طور پر کام کر رہی ہے، جسے عالمی سطح پر روکنا ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ سلامتی کونسل کو سیاسی مصلحتوں سے بالاتر ہو کر دہشت گردی کے خلاف یکساں اور غیر جانبدارانہ رویہ اپنانا ہوگا۔ پاکستان کے مطابق اگر بی ایل اے کو پابندیوں کی فہرست میں شامل نہ کیا گیا تو یہ عالمی دہشت گردی کے خلاف کوششوں کو کمزور کرے گا اور دہشت گرد گروہوں کو مزید شہہ ملے گی۔
آخر میں پاکستانی مندوب نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ پاکستان کے خدشات کو سنجیدگی سے لے اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ اور مؤثر اقدامات کو یقینی بنائے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان خود دہشت گردی کے خلاف ایک طویل اور بھاری قیمت ادا کر چکا ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ عالمی سطح پر بھی ان عناصر کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کی جائے جو امن کو تباہ کر رہے ہیں۔
