باجوڑ میں قیامِ امن کے لیے جرگے کا اہم اعلان

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

باجوڑ: ضلع باجوڑ میں ارکانِ اسمبلی، قومی مشران اور عمائدین پر مشتمل ایک اہم جرگے نے صوبے میں قیامِ امن کے لیے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا ساتھ دینے کا اعلان کیا ہے۔ جرگے نے امن و امان کی بہتری، پاک افغان تعلقات اور ترقیاتی حکمتِ عملی پر سنجیدہ غور و خوض کرتے ہوئے صوبائی حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

latest urdu news

وزیراعلیٰ کی زیر صدارت جرگہ

ایکسپریس نیوز کے مطابق یہ جرگہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں ضلع باجوڑ کے پارلیمنٹیرینز، قبائلی عمائدین اور قومی مشران نے شرکت کی۔ جرگے کے شرکاء نے وزیراعلیٰ پر بھرپور اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے صوبے میں امن کے قیام کے لیے مشترکہ کوششوں پر زور دیا۔

امن و امان اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال

جرگے کے دوران صوبے میں امن و امان کی موجودہ صورتحال، پاک افغان تعلقات میں بہتری اور مستقبل کی ترقیاتی پالیسیوں پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ شرکاء کی جانب سے مستقل امن کے قیام کے لیے مختلف تجاویز بھی پیش کی گئیں، جنہیں وزیراعلیٰ نے غور سے سنا اور ان پر عملدرآمد کی یقین دہانی کرائی۔

متاثرہ گھروں کے لیے امداد میں نمایاں اضافہ

اس موقع پر وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے باجوڑ میں حالیہ آپریشن کے دوران جزوی طور پر متاثر ہونے والے گھروں کی تعمیر نو کے لیے مالی امداد میں نمایاں اضافے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ خاندانوں کو دی جانے والی رقم 1 لاکھ 60 ہزار روپے سے بڑھا کر 5 لاکھ روپے کر دی گئی ہے، تاکہ نقصانات کا بہتر ازالہ ہو سکے۔

پاک فوج کا باجوڑ کی تحصیل ماموند میں آپریشن، عوام کا والہانہ استقبال

قربانیوں کا اعتراف اور پالیسی پر مؤقف

وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبے میں امن کے قیام کے لیے قبائلی مشران، عوام، پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے بے مثال قربانیاں دی ہیں، جن کی بدولت 2018ء میں ملک میں امن بحال ہوا تھا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اب حالات کو دانستہ طور پر خراب کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، جن کا مقابلہ اجتماعی فیصلوں سے ہی ممکن ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ بند کمروں میں کیے گئے فیصلوں سے ہمیشہ مسائل نے جنم لیا ہے، جبکہ مؤثر حل قبائلی مشران اور صوبائی حکومت کو اعتماد میں لے کر ہی نکل سکتا ہے۔

ضم اضلاع کے مسائل اور حکومتی اقدامات

وزیراعلیٰ نے فاٹا انضمام کے بعد وفاقی وعدوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سالانہ 100 ارب روپے دینے کا وعدہ کیا گیا تھا، مگر سات برس میں صرف 168 ارب روپے فراہم کیے گئے، جبکہ 532 ارب روپے تاحال بقایا ہیں۔ انہوں نے ضم اضلاع میں پولیس بھرتیوں کے لیے عمر کی حد بڑھانے، شہداء پیکیج پر کام تیز کرنے اور قبائلی مشران کو سیکیورٹی فراہم کرنے کی بھی ہدایات جاری کیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ روشن قبائل پیکیج کے تحت ضم اضلاع میں اسکولوں اور اسپتالوں کی بہتری کو یقینی بنایا جائے گا، تاکہ پائیدار امن کے ساتھ ترقی کا عمل بھی آگے بڑھ سکے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter