وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے الزام عائد کیا ہے کہ ملک میں دہشتگردی کی حالیہ لہر کے پس منظر میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا کردار شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک وقت تھا جب خودکش حملے ختم ہو چکے تھے، تاہم بعد میں آنے والی حکومت کی پالیسیوں کے باعث حالات دوبارہ بگڑ گئے۔
لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عطا تارڑ نے کہا کہ دہشتگردوں کا نہ کوئی دین ہوتا ہے اور نہ ہی مذہب، ان کا واحد مقصد معاشرے میں خوف اور دہشت پھیلانا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مساجد، امام بارگاہوں اور دیگر حساس مقامات کی سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے حکومت بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ تحقیقات سے یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ حالیہ خودکش حملے کا ملزم افغانستان گیا تھا۔ ان کے مطابق حکومت ہر صورت دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں کا تعاقب کرے گی اور ملک میں ان کے لیے کسی قسم کی گنجائش نہیں چھوڑی جائے گی۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ دہشتگردی کے خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔
عطا تارڑ نے مزید بتایا کہ دہشتگرد عموماً سافٹ ٹارگٹس کو نشانہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں، تاہم اس کیس میں ملوث ہینڈلرز کی نشاندہی کر لی گئی ہے اور انہیں قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ خودکش حملہ آور کی شناخت ہو چکی ہے اور اسی بنیاد پر تحقیقات کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
اسلام آباد خودکش حملہ: افغانی ماسٹر مائنڈ گرفتار
وفاقی وزیر نے پی ٹی آئی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک دور میں دہشتگردی کا مکمل خاتمہ کر دیا گیا تھا، مگر بعد میں آنے والی حکومت نے یہ مؤقف اپنایا کہ دہشتگرد “پرامن لوگ اور ہمارے بھائی” ہیں اور ان سے بات چیت ہونی چاہیے۔ عطا تارڑ کے مطابق اسی سوچ کا خمیازہ آج پاکستانی عوام بھگت رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جن علاقوں سے دہشتگردوں کو نکال کر امن قائم کیا گیا تھا، وہاں دوبارہ دہشتگردی کا لوٹ آنا تشویشناک ہے، اور ان کے بقول اس صورتحال کے پیچھے پی ٹی آئی کی پالیسیاں کارفرما ہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے واضح کیا کہ موجودہ حکومت دہشتگردی کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور امن و امان کے قیام کے لیے ہر ممکن قدم اٹھایا جائے گا۔
