اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ عمران خان کی تینوں بہنیں 9 مئی کے واقعات میں کور کمانڈر ہاؤس میں موجود تھیں لیکن انہیں اس لیے گرفتار نہیں کیا گیا کہ عمران خان بعد میں یہ مؤقف نہ اختیار کریں کہ ان کی بہنوں کو اندر کر دیا گیا۔
میڈیا سے گفتگو میں عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ صوبائی حکومتوں کی کوتاہیوں کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ تین برسوں میں دہشت گردی سے متعلق 4 ہزار سے زائد کیسز رجسٹرڈ ہوئے لیکن ان میں سزا کی شرح نہ ہونے کے برابر ہے، جس کی بنیادی وجہ صوبائی حکومتوں کے ماتحت کمزور پراسیکیوشن سسٹم ہے۔
انہوں نے صوبائی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اڈیالہ جیل کے باہر نعرے لگانے تو آتے ہیں لیکن انہیں پراسیکیوشن کا بنیادی تصور بھی معلوم نہیں۔ ان کے مطابق صوبائی حکومت دہشت گردی کے مقدمات میں فردِ جرم عائد کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ کچھ صوبے ایسے ہیں جہاں ہزاروں گاڑیاں نان کسٹم پیڈ نمبر پلیٹس کے ساتھ چلتی ہیں اور غیر قانونی تجارت سے حاصل شدہ پیسہ دہشت گردوں کو جاتا ہے۔
عطا تارڑ نے الزام لگایا کہ پی ٹی آئی کا ملک دشمن عناصر کے ساتھ گٹھ جوڑ بے نقاب ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق افغانستان سے دراندازی کے واقعات پر فوج کے اقدام سے پی ٹی آئی "خوش نہیں ہوئی” اور افغانستان کی بیانیہ کی حمایت کرتی ہے۔
انہوں نے محمود خان اچکزئی پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ دہشت گردی کے واقعات کے بعد اسمبلی میں کھڑے ہو کر صرف "کابل، کابل اور کابل” کی بات کرتے ہیں۔
عطا تارڑ نے عمران خان کی بہن نورین خان کے حوالے سے کہا کہ وہ بھارت میں جا کر پاکستان کے شہدا کے مؤقف کی حمایت کرنے کے بجائے پاکستان کو بدنام کرتی ہیں۔
