وفاقی وزیرِ اطلاعات عطا تارڑ نے ایک بار پھر بانی پی ٹی آئی اور سابق وزیراعظم عمران خان سے متعلق ڈیل یا کسی ممکنہ رعایت کی خبروں کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کا مؤقف بالکل واضح ہے اور اس حوالے سے پھیلائی جانے والی اطلاعات میں کوئی صداقت نہیں۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عطا تارڑ نے کہا کہ عمران خان مختلف مقدمات میں عدالتوں سے سزا یافتہ ہیں، اس لیے انہیں کسی قسم کی خصوصی سہولت یا نرمی دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ انہوں نے واضح کیا کہ قانون کی نظر میں تمام شہری برابر ہیں اور حکومت کسی کے ساتھ امتیازی برتاؤ نہیں کرے گی۔ ان کے مطابق ڈیل یا ڈھیل کی باتیں محض افواہیں ہیں جو سیاسی مقاصد کے تحت پھیلائی جا رہی ہیں۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ بعض عناصر جان بوجھ کر یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ پسِ پردہ کوئی مفاہمت ہو رہی ہے، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ انہوں نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ نہ کوئی خفیہ معاہدہ زیر غور ہے اور نہ ہی کسی سطح پر کوئی رعایت دی جا رہی ہے۔ تمام معاملات قانون اور عدالتی فیصلوں کے مطابق آگے بڑھ رہے ہیں۔
اسٹریٹ موومنٹ کی باتیں ہوئیں تو عمران خان کی رمضان ملاقاتیں بھی متاثر ہوسکتی ہیں: رانا ثنا اللہ
عطا تارڑ نے اس موقع پر عمران خان کی صحت سے متعلق امور کو بھی سیاست سے دور رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انسانی معاملات کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے اپوزیشن جماعتوں کو مشورہ دیا کہ وہ ذمہ دارانہ طرز عمل اپنائیں اور غیر مصدقہ خبروں سے گریز کریں۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ حکومت کی ترجیح ملک میں قانون کی حکمرانی اور استحکام کو یقینی بنانا ہے۔ عدالتی فیصلوں کا احترام کیا جائے گا اور کسی بھی قسم کی رعایت یا سمجھوتے کی خبریں بے بنیاد ہیں جن پر یقین نہیں کیا جانا چاہیے۔
