آصف علی زرداری نے ایک بار پھر پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ وہاڑی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر زرداری نے کہا کہ ڈیڑھ سال میں عمران خان کی آوازیں مسلسل سامنے آنے لگی ہیں، اور سیاست میں یہ معمول کی بات ہے، اگر برداشت نہیں کر سکتے تو آسان کام اختیار کریں۔
صدر مملکت نے کہا، “یہ کام کرنا ضروری ہے! اگر برداشت نہیں کرسکتے تو تم مدر ٹریسا بن جاتے، کرکٹ کے گاڈ بن جاتے، ہر جگہ کرکٹ کلبس بناتے، تم ایک شعبے کو لے لیتے، لیکن سیاست میں ہر شعبہ آتا ہے۔”
انہوں نے ملکی ترقی کے لیے زرعی شعبے کو مضبوط کرنے پر زور دیا اور کہا کہ کسانوں کی سہولت اور جدید زرعی طریقوں کے فروغ سے ملک کی اقتصادی ترقی ممکن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ہر قسم کی نعمت موجود ہے، لیکن تسلسل اور سوچ کی کمی ہے۔
صدر زرداری نے کشمیر کے مسئلے پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستان کی شہ رگ ہے اور اس کے ایک انچ پر بھی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے اقدامات کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ علاقائی خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنایا گیا۔
رحیم یار خان میں خطاب: صدر آصف زرداری کا جیل، سیاست اور بی بی شہید کی جدوجہد پر اظہارِ خیال
انہوں نے سیاسی بلوغت اور حکمرانی میں لچک کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ بلوچستان کے عوام کے مسائل کے باوجود ملک کی مجموعی صورتحال بہتر ہوئی ہے۔ انہوں نے کے پی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ مارکٹی حکمت عملی پر کام کر رہی ہے اور عوام کی بہتری کے لیے اقدامات نہیں کیے گئے۔
صدر زرداری نے عمران خان کے طرز عمل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک چار سال رک گیا، اور وہ شخص روزانہ بھاشن دینے کی عادت کا مالک تھا، جس کی وجہ سے دیگر تقریریں دب گئی تھیں۔ انہوں نے اپنے تجربات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 14 سال جیل میں رہنے کے بعد اپنے بچوں سے ملے، جو قد میں بڑے ہو چکے تھے، اور یہ تکالیف برداشت کرنا زندگی کا حصہ ہے۔
صدر زرداری کا خطاب سیاسی بصیرت اور صبر کے درس کے ساتھ ساتھ موجودہ سیاست میں برداشت اور ذمہ داری کے اہمیت کو واضح کرتا ہے۔
