Aqeel Malik نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے 20 آئل ٹینکرز میں سے صرف 2 کا تعلق پاکستان سے تھا، جبکہ باقی جہاز دیگر ممالک کے تھے۔ ان کے مطابق پاکستانی پرچم ہونے کی وجہ سے ان جہازوں کو گزرنے کی اجازت ملی، جس کے باعث کچھ غلط فہمیاں پیدا ہوئیں۔
سماء نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے وضاحت کی کہ پاکستان پہنچنے والے صرف دو جہاز پرانی قیمت پر تیل لے کر آئے تھے، جبکہ دیگر جہازوں کا پاکستان سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ عوام پر کم سے کم بوجھ ڈالا جائے۔
بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ایک مشکل مگر ناگزیر فیصلہ تھا، جو خطے کی کشیدہ صورتحال کے باعث کرنا پڑا۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ ٹارگٹڈ سبسڈی کے حوالے سے بھی بات چیت کی ہے تاکہ عوام کو ریلیف دیا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت خطے میں جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں کر رہی ہے اور پاکستان دیگر ممالک کے ساتھ مل کر ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے تاکہ جنگ کا خاتمہ جلد ممکن ہو سکے۔
ٹرمپ : ایران نےتحفے کے طور پر آبنائے ہرمز سے 10 آئل ٹینکرز گزارے
ملکی صورتحال کے حوالے سے انہوں نے عندیہ دیا کہ اسمارٹ لاک ڈاؤن جیسے اقدامات زیر غور ہیں، جبکہ مارکیٹس کو رات 8 بجے بند کرنے اور عوام کو پبلک ٹرانسپورٹ کے استعمال کی طرف راغب کرنے کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کی جانب سے احتجاج کا سلسلہ جاری ہے، تاہم جلسوں کی اجازت سیکیورٹی رپورٹس کو مدنظر رکھ کر دی جائے گی۔ ان کے مطابق سیاسی جماعتوں کے درمیان رابطے خوش آئند ہیں، لیکن کسی بھی نئی آئینی ترمیم کے لیے اتفاق رائے ضروری ہوگا۔
