خیبر پختونخوا کے خوبصورت اور پہاڑی علاقے چترال میں ایک امریکی شکاری نے کشمیری مارخور کا کامیاب ٹرافی شکار کر لیا۔ یہ شکار محکمہ وائلڈ لائف کی سخت نگرانی اور طے شدہ ضابطوں کے مطابق کیا گیا، جسے حکام نے قانونی اور شفاف عمل قرار دیا ہے۔
محکمہ وائلڈ لائف کے مطابق امریکی شکاری نے کشمیری مارخور کے ٹرافی شکار کے لیے 2 لاکھ 70 ہزار امریکی ڈالر میں خصوصی پرمٹ حاصل کیا تھا، جو پاکستانی کرنسی میں تقریباً 7 کروڑ 56 لاکھ روپے بنتے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ رقم حکومت کے مقررہ طریقہ کار کے تحت وصول کی گئی اور اس سے مقامی آبادی کو براہِ راست فائدہ پہنچے گا۔
وائلڈ لائف حکام نے بتایا کہ شکار کیے گئے کشمیری مارخور کے سینگوں کی لمبائی 52 انچ تھی، جو اسے ایک خوبصورت اور قیمتی ٹرافی بناتی ہے۔ مارخور کو تقریباً 510 میٹر کے فاصلے سے نشانہ بنایا گیا، جس کے لیے ماہر نشانہ بازی کی ضرورت ہوتی ہے۔ شکار کے دوران ماحولیاتی اصولوں اور جانوروں کے تحفظ سے متعلق تمام قوانین پر مکمل عمل کیا گیا۔
چترال: روسی شہری نے 68 ہزار ڈالر میں کشمیری مارخور کا شکار کیا، آمدن سے مقامی فلاح
محکمہ وائلڈ لائف کے مطابق امریکی شکاری نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی خواہش کا اظہار کیا، جس کا احترام کیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ٹرافی ہنٹنگ ایک منظم نظام کے تحت کرائی جاتی ہے، جس کا مقصد نہ صرف نایاب جنگلی حیات کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے بلکہ مقامی کمیونٹیز کو معاشی طور پر مضبوط کرنا بھی ہے۔
محکمہ وائلڈ لائف نے واضح کیا کہ ٹرافی ہنٹنگ سے حاصل ہونے والی آمدن کا 80 فیصد حصہ مقامی کمیونٹی کی فلاح و بہبود پر خرچ کیا جائے گا۔ اس رقم سے صحت، تعلیم، بنیادی سہولیات اور مقامی انفراسٹرکچر کی بہتری جیسے منصوبے مکمل کیے جاتے ہیں، جس سے مقامی افراد میں جنگلی حیات کے تحفظ کا شعور بھی پیدا ہوتا ہے۔
حکام کے مطابق کشمیری مارخور پاکستان کا قومی جانور ہے اور ٹرافی ہنٹنگ کے سخت ضابطوں کی بدولت اس کی آبادی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کے منظم اور قانونی اقدامات سے نہ صرف قدرتی وسائل محفوظ رہتے ہیں بلکہ پاکستان کو عالمی سطح پر ماحولیاتی تحفظ کے حوالے سے مثبت شناخت بھی ملتی ہے۔
