پاکستان کے بڑے شہروں میں فضائی آلودگی کی صورتحال بدستور انتہائی تشویشناک بنی ہوئی ہے، جہاں لاہور ایک بار پھر دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں پہلے نمبر پر آ گیا ہے۔ عالمی ماحولیاتی ویب سائٹ کی تازہ رپورٹ کے مطابق لاہور کا ایئر کوالٹی انڈیکس 342 ریکارڈ کیا گیا، جو صحت کے عالمی معیار کے مطابق نہایت خطرناک سطح ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملک کے مختلف علاقوں میں اسموگ اور آلودہ ہوا نے شہریوں کی زندگی کو شدید متاثر کر رکھا ہے۔ سانس، آنکھوں اور گلے کی بیماریوں میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جب کہ ماہرین نے شہریوں کو غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نکلنے سے گریز کا مشورہ دیا ہے۔
عالمی ماحولیاتی ڈیٹا کے مطابق پشاور 435 اے کیو آئی کے ساتھ پاکستان کا سب سے زیادہ آلودہ شہر ریکارڈ کیا گیا ہے، جو ایک خطرناک حد سے بھی کہیں زیادہ ہے۔ اسی طرح فیصل آباد میں فضائی آلودگی کا انڈیکس 278 تک پہنچ چکا ہے، جو مضرِ صحت زمرے میں آتا ہے۔
محکمہ ماحولیات پنجاب کے اعداد و شمار کے مطابق صوبے کے دیگر شہروں میں بھی ہوا کا معیار تسلی بخش نہیں۔ نارووال کا اے کیو آئی 279، شیخوپورہ کا 251 جبکہ خانیوال کا 236 ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ان شہروں میں بھی اسموگ اور دھند نے معمولاتِ زندگی متاثر کر دیے ہیں۔
پنجاب میں فضائی آلودگی میں اضافہ، لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں دوسرے نمبر پر
ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ گاڑیوں کے دھوئیں، صنعتی آلودگی، فصلوں کی باقیات جلانے اور موسمی تبدیلیوں کے باعث فضائی آلودگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ اگر فوری اور سخت اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے دنوں میں صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔
محکمہ صحت نے بچوں، بزرگوں اور سانس و دل کے مریضوں کو خصوصی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے، جب کہ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ ماسک کا استعمال کریں اور غیر ضروری سرگرمیوں سے پرہیز کریں۔
