قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کا معاملہ حل ہونے کے قریب

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد میں قومی اسمبلی کے ایوان سے جڑے ایک اہم سیاسی معاملے پر پیش رفت سامنے آئی ہے۔ چیئرمین پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ اپوزیشن لیڈر کے تقرر کا معاملہ اب اپنے آخری مرحلے میں داخل ہوچکا ہے اور جمعرات تک محمود خان اچکزئی کا بطور قائدِ حزبِ اختلاف نوٹیفکیشن جاری ہوجائے گا۔ ان کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں طریقۂ کار طے پا گیا ہے، جس کے بعد اب مزید تاخیر کی گنجائش نہیں رہی۔

latest urdu news

اسپیکر قومی اسمبلی سے اہم ملاقات

جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے بتایا کہ پی ٹی آئی کے ایک وفد نے اسپیکر قومی اسمبلی سے ملاقات کی، جس میں اپوزیشن لیڈر کے تقرر سے متعلق آئینی اور پارلیمانی پہلوؤں پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔ ان کے بقول اس ملاقات میں اس بات پر اتفاق ہوا کہ اپوزیشن لیڈر کی نامزدگی کا عمل قواعد و ضوابط کے مطابق مکمل کیا جائے گا، اور اسی بنیاد پر محمود خان اچکزئی کا نوٹیفکیشن جاری ہوگا۔

پیپلز پارٹی کا کردار اور اختلاف

بیرسٹر گوہر نے اس ملاقات کے دوران پیپلز پارٹی کے دو ارکان کی موجودگی کا بھی ذکر کیا۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ پیپلز پارٹی اس وقت اپوزیشن بینچز پر نہیں بیٹھی، اس لیے ان کا اپوزیشن لیڈر کے تقرر کے عمل میں کوئی آئینی حق نہیں بنتا۔ بیرسٹر گوہر کے مطابق پیپلز پارٹی کے نمائندوں نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ وہ اس ضمن میں کوئی دستاویز جمع نہیں کرائیں گے، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ وہ اس معاملے میں عملی طور پر فریق نہیں بننا چاہتے۔

پی ٹی آئی میں محمود خان اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر بنانے پر اختلافات موجود ہیں، اسپیکر

سیاسی ڈیڈ لاک کے خاتمے کی امید

سیاسی مبصرین کے مطابق قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف کی تقرری نہ ہونے کے باعث اپوزیشن کو پارلیمانی کردار ادا کرنے میں مشکلات کا سامنا تھا۔ ایسے میں محمود خان اچکزئی کی بطور اپوزیشن لیڈر نامزدگی کو سیاسی ڈیڈ لاک کے خاتمے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ پیش رفت نہ صرف اپوزیشن کو ایک متفقہ قیادت فراہم کرے گی بلکہ پارلیمانی نظام میں توازن قائم رکھنے میں بھی مددگار ثابت ہوگی۔

آئندہ کی سیاسی سمت

اگر جمعرات تک نوٹیفکیشن جاری ہوجاتا ہے تو یہ اقدام قومی اسمبلی میں اپوزیشن کے کردار کو مزید منظم اور مؤثر بنا سکتا ہے۔ سیاسی حلقوں میں اس پیش رفت کو جمہوری عمل کے تسلسل اور پارلیمانی روایات کی بحالی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، جس کے اثرات آنے والے دنوں میں قانون سازی اور ایوان کی کارروائی پر بھی مرتب ہونے کا امکان ہے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter