آٹھ فروری کو ملک گیر احتجاج کا اعلان، علیمہ خان کی حکومت پر سخت تنقید

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے اعلان کیا ہے کہ آٹھ فروری کو ملک بھر میں مکمل احتجاج کیا جائے گا اور عوام اپنے حقوق کے لیے سڑکوں پر نکلیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ احتجاج ان شہریوں کی آواز بنے گا جن کے ووٹ ان سے چھینے گئے اور جو اب اپنا حق واپس لینے کے لیے پرعزم ہیں۔

latest urdu news

عدالت پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے کہا کہ عوام کے مینڈیٹ کو نظر انداز کیا گیا اور انتخابی عمل پر سنگین سوالات کھڑے ہو چکے ہیں۔ ان کے مطابق جن لوگوں کا ووٹ چرایا گیا، وہ خاموش نہیں رہیں گے بلکہ پرامن احتجاج کے ذریعے اپنے حق کا مطالبہ کریں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ آٹھ فروری کو پورا ملک بند ہوگا اور ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد احتجاج میں شریک ہوں گے۔

علیمہ خان نے الزام عائد کیا کہ عمران خان کا نام لینے پر بھی کارکنان کو تشدد اور گرفتاریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کا رویہ انتہائی سخت ہو چکا ہے اور کارکنان کو بلاجواز نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس اہلکار بظاہر ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں لیکن عملی طور پر کارکنان پر تشدد کیا جاتا ہے۔

انہوں نے ایک واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ رات اڈیالہ جیل کے باہر ایک کمسن بچے نے عمران خان کا نام لیا تو اسے حراست میں لے لیا گیا۔ علیمہ خان کے مطابق یہ صورتحال اس بات کی عکاس ہے کہ ملک میں اظہارِ رائے کی آزادی شدید دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس اہلکار بار بار یقین دہانی کراتے ہیں کہ وہ عمران خان کے ساتھ ہیں، لیکن اس کے باوجود کارکنان کو تشدد اور گرفتاریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

مذاکرات کی بات حکومت کی جانب سے آئی، تحریک تحفظ آئین کی نہیں: علیمہ خان

علیمہ خان نے مزید بتایا کہ اڈیالہ روڈ پر ایک ریلی کے دوران تقریباً 400 پولیس اہلکار تعینات تھے۔ ان کے مطابق جب نجم نامی بچے نے بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے حق میں نعرہ لگایا تو پولیس نے شدید لاٹھی چارج کیا، جس کے نتیجے میں کارکنان زخمی ہوئے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اس دوران خواتین کے ساتھ بھی بدسلوکی اور کھینچا تانی کی گئی۔

آخر میں علیمہ خان نے کہا کہ عمران خان 25 کروڑ عوام کی نمائندگی کرتے ہیں اور ان کے حق میں اٹھنے والی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا۔ انہوں نے واضح کیا کہ جدوجہد جاری رہے گی اور عوام اپنے حقوق حاصل کر کے رہیں گے، چاہے اس کے لیے انہیں کتنی ہی قربانیاں کیوں نہ دینی پڑیں۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter