وفاقی وزیرِ داخلہ سینیٹر محسن نقوی نے پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین کی جیل منتقلی سے متعلق اہم اعلان کیا ہے۔
جس میں انہوں نے بتایا کہ اسلام آباد میں زیرِ تعمیر ماڈل جیل کے مکمل ہونے پر پی ٹی آئی کے بانی کو وہاں منتقل کیا جائے گا۔
محسن نقوی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام آباد ماڈل جیل جو کہ کافی عرصے سے تعمیر کے مراحل میں ہے، اُسے تقریباً دو ماہ کے اندر مکمل کیا جائے گا۔ اس جدید جیل میں قیدیوں کے لیے طبی سہولیات سمیت دیگر بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا ہے، تاکہ رہائشیوں کو بہتر حالات میسر آئیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ چونکہ پی ٹی آئی کے بانی کو سزا اسلام آباد کی عدالت نے سنائی ہے، اس لیے جیل مکمل ہونے پر انہیں اسی شہر کی جیل میں تبدیل کیا جائے گا تاکہ قانونی تقاضے بھی پورے ہوں اور قیدی کو مناسب انتظامات کے ساتھ رکھا جا سکے۔
وزیرِ داخلہ نے یہ بھی واضح کیا کہ نئی جیل میں تمام طبی سہولیات موجود ہوں گی، جس کا مقصد قیدیوں کی صحت اور فلاح و بہبود کو بہتر بنانا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جیل کے اندر جدید طبی آلات اور پیشہ ور عملہ دستیاب ہوں گے، تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری طور پر مدد فراہم کی جاسکے۔
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک کی سیاسی صورتِ حال خاصی کشیدہ ہے اور پی ٹی آئی کے بانی کی صحت اور قید کی صورتحال پر مختلف حلقوں کی طرف سے تشویش کا اظہار ہوتا رہا ہے۔ بعض رپورٹس کے مطابق ان کے طبی معائنے اور صحت کی جگہ بھی عوامی بحث کا موضوع رہی ہے، اور اہلِ خانہ کو ان کی میڈیکل رپورٹ فراہم کی جا چکی ہے۔
محسن نقوی کا یہ بیان واضح طور پر بتاتا ہے کہ حکومت اسلام آباد ماڈل جیل کو جلد از جلد فعال بنانے کے لیے کام کر رہی ہے اور آئندہ چند ماہ میں اسے مکمل طور پر فنکشنیل بنانے کا عزم رکھتی ہے، تاکہ سزا یافتہ قیدیوں کو مناسب اور معیاری رہائشی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
