ایران کسی دباؤ میں نہیں آئے گا، دشمن کو پسپا کریں گے: آیت اللہ خامنہ ای

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کسی بھی دشمن کے سامنے جھکنے والا نہیں اور نہ ہی پیچھے ہٹنے کا سوال پیدا ہوتا ہے۔

latest urdu news

آیت اللہ خامنہ ای نے ملک کی موجودہ معاشی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ مہنگائی، کرنسی کی قدر میں کمی اور زرِمبادلہ کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ کے باعث کاروباری طبقہ مشکلات کا شکار ہے۔ ان کے مطابق تاجر اگر یہ کہتے ہیں کہ موجودہ حالات میں کاروبار ممکن نہیں تو وہ درست کہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس مسئلے سے آگاہ ہے اور صدر سمیت اعلیٰ حکام معاشی استحکام کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہے ہیں۔

ایرانی سپریم لیڈر نے الزام عائد کیا کہ کرنسی میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ فطری نہیں بلکہ اس میں دشمن عناصر ملوث ہیں، جن کا مقصد ملک میں عدم استحکام پیدا کرنا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اس رجحان کو روکنا ضروری ہے۔

میں نے آیت اللّٰہ خامنہ ای کو بچایا، لیکن انہوں نے شکریہ تک نہیں ادا کیا: ڈونلڈ ٹرمپ

احتجاجی مظاہروں سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ پرامن احتجاج عوام کا حق ہے، تاہم احتجاج اور شرپسندی میں واضح فرق ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق مظاہرین سے بات چیت کی جا سکتی ہے لیکن تشدد پھیلانے والوں کے ساتھ نرمی برتنا درست نہیں۔

دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی امریکی بیانات کو غیر ذمہ دارانہ اور خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران عوامی املاک پر حملوں کو ہرگز برداشت نہیں کرے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کی مسلح افواج مکمل طور پر الرٹ ہیں اور ملکی خودمختاری پر کسی بھی حملے کا بھرپور جواب دینا جانتی ہیں۔

واضح رہے کہ ایران میں مہنگائی کے خلاف احتجاج جاری ہے، جن کے دوران اب تک 9 افراد ہلاک جبکہ 44 افراد کو بدامنی پھیلانے کے الزام میں گرفتار کیا جا چکا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان لفظی کشیدگی اس وقت بڑھی جب صدر ٹرمپ نے ایرانی مظاہرین کے حق میں بیان دیا، جسے ایرانی قیادت نے اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دیا۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter