امریکی ورچوئل ایمبیسی نے ایران میں مقیم امریکی شہریوں کو فوری ملک چھوڑنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
اس ہدایت میں شہریوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنی روانگی کا منصوبہ امریکی حکومت کی مدد پر انحصار کیے بغیر خود بنائیں، کیونکہ پروازیں کسی بھی وقت منسوخ یا تعطل کا شکار ہو سکتی ہیں۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق، امریکی ورچوئل ایمبیسی نے بیان میں شہریوں کو خبردار کیا کہ ایران میں موجود حالات غیر مستحکم ہو سکتے ہیں، اور کسی بھی غیر متوقع صورتحال کے پیش نظر انہیں اپنی حفاظت اور ضروریات کا خود خیال رکھنا ضروری ہے۔ اگر فوری طور پر ایران چھوڑنا ممکن نہ ہو تو شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے گھروں یا کسی محفوظ عمارت میں قیام کریں اور خوراک، پانی، ادویات اور دیگر ضروری اشیاء کا مناسب ذخیرہ رکھیں۔
مزید یہ کہ ورچوئل ایمبیسی نے کہا کہ اگر حالات اجازت دیں تو امریکی شہری زمینی راستے سے آرمینیا یا ترکی کی جانب روانہ ہونے پر بھی غور کریں۔ اس اقدام کو ایران میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ممکنہ سفارتی پیچیدگیوں سے جوڑا جا رہا ہے، جس کی بنیاد پر امریکی حکام نے شہریوں کی حفاظت کے لیے یہ ہدایت جاری کی ہے۔
ایران بات چیت کی راہ پر آ گیا، حملے سے بچنا چاہتا ہے:ٹرمپ کا دعویٰ
امریکی حکام نے زور دیا ہے کہ شہری اپنی سفری منصوبہ بندی جلد از جلد مکمل کریں اور ہنگامی صورتحال کے لیے تیار رہیں تاکہ کسی بھی غیر متوقع صورتحال میں ان کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔ یہ ہدایت ایران میں امریکی شہریوں کے لیے ایک تنبیہی اقدام کے طور پر دیکھی جا رہی ہے تاکہ کسی بھی بحران کے دوران نقصان سے بچا جا سکے۔
