برطانیہ نے غزہ میں جاری اسرائیلی مظالم کے پیش نظر ایک اہم سفارتی قدم اٹھاتے ہوئے اسرائیلی حکام کو لندن میں ہونے والی عالمی دفاعی نمائش (Arms Fair) میں مدعو نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
برطانوی حکومتی ترجمان نے واضح کیا کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ میں فوجی کارروائیاں تیز کرنا ایک غلط فیصلہ ہے، جس سے جنگ کا دائرہ وسیع ہو رہا ہے۔ برطانیہ کا مؤقف ہے کہ اب وقت آ چکا ہے کہ فوری سیز فائر ہو اور مسئلے کا سفارتی حل تلاش کیا جائے تاکہ مزید انسانی جانیں ضائع نہ ہوں۔
ترجمان کے مطابق اگرچہ اسرائیلی دفاعی کمپنیاں اس ایونٹ میں شرکت کر سکیں گی، لیکن اسرائیلی سرکاری نمائندوں کو باضابطہ دعوت نہیں دی جائے گی۔ یہ فیصلہ دونوں ممالک کے درمیان بگڑتے سفارتی تعلقات کے تناظر میں کیا گیا ہے۔
غزہ پر اسرائیلی حملے جاری، مزید 8 فلسطینی شہید
لندن میں ہونے والی یہ عالمی اسلحہ نمائش 9 ستمبر سے 12 ستمبر 2025 تک جاری رہے گی، جس میں دنیا بھر کی اسلحہ ساز کمپنیاں اور دفاعی ادارے شرکت کریں گے۔
واضح رہے کہ غزہ میں تقریباً دو سال سے جاری اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں اب تک 62 ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور ڈیڑھ لاکھ سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ ان حملوں میں زیادہ تر شہری، خواتین اور بچے نشانہ بنے ہیں۔
برطانوی فیصلے کو بین الاقوامی سطح پر ایک اخلاقی مؤقف کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو اسرائیل پر دباؤ بڑھانے اور غزہ میں انسانی بحران کے خاتمے کی کوششوں کا حصہ ہے۔