ایران میں گزشتہ دو ہفتوں سے جاری پُرتشدد مظاہروں کا سلسلہ بالآخر رک گیا ہے اور مختلف شہروں میں حالات آہستہ آہستہ معمول کی طرف لوٹنے لگے ہیں۔
ایرانی حکام کے مطابق سیکیورٹی اقدامات کے بعد امن و امان کی صورتحال میں بہتری آئی ہے، جبکہ ملک بھر میں انٹرنیشنل کالز کی سروس بحال کر دی گئی ہے، تاہم انٹرنیٹ سروس تاحال معطل ہے۔
ایرانی سیکیورٹی اور انٹیلی جنس اداروں نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ فسادات کے دوران متعدد گھروں پر چھاپے مارے گئے، جہاں سے امریکی ساختہ دھماکہ خیز مواد اور اسلحہ برآمد ہوا۔ حکام کے مطابق یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ بدامنی پھیلانے کی کوششوں کے پیچھے بیرونی عناصر اور غیرملکی حمایت شامل رہی ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔
ایران میں اسٹار لنک انٹرنیٹ کے خلاف حکومتی کریک ڈاؤن
دوسری جانب ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ ایرانی حکام اور عوامی حلقوں کی جانب سے ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کو ایرانی عوام کا قاتل قرار دیا جا رہا ہے۔ امریکی صدر نے فسادات کے خاتمے کے بعد ایرانی عوام کو دوبارہ احتجاج پر اکسانے کی کوشش کی اور مظاہرین کو ایرانی اداروں کا کنٹرول سنبھالنے کی ترغیب دیتے ہوئے امریکی مدد کی پیشکش بھی کی، جس پر ایران میں شدید ردعمل دیکھنے میں آیا۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ اگر امریکا نے کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی کی کوشش کی تو ایران مکمل طور پر تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران یہ نہیں سمجھتا کہ امریکا منصفانہ اور سنجیدہ مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری اور قومی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
عباس عراقچی نے جرمن چانسلر کے حالیہ بیان پر بھی سخت تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ برلن انسانی حقوق پر لیکچر دینے کے لیے دنیا کی بدترین جگہ ہے۔ وزیر خارجہ کے مطابق جرمنی وینزویلا کے صدر کے اغوا پر مسلسل خاموش رہا اور غزہ میں 70 ہزار سے زائد فلسطینیوں کی شہادتوں پر بھی اس نے کوئی واضح مؤقف اختیار نہیں کیا، جس پر اسے شرم آنی چاہیے۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ فسادات کے خاتمے کے بعد حالات کو مکمل طور پر معمول پر لانے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔ سیکیورٹی ادارے الرٹ ہیں اور ملک میں امن و استحکام برقرار رکھنے کے لیے تمام ضروری وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں، جبکہ عوام سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ افواہوں پر کان نہ دھریں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تعاون کریں۔
