ایران کے ساتھ بڑھتی کشیدگی کے پیش نظر امریکا نے مشرق وسطیٰ میں ایک طاقتور جنگی بیڑا روانہ کیا ہے، جس میں ایئرکرافٹ کیریئر، کروز میزائل، تباہ کن جہاز اور دیگر جنگی کشتیاں شامل ہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی محکمۂ دفاع پینٹاگون نے بتایا کہ جنوبی چین کے سمندر سے USS Abraham Lincoln نامی طیارہ بردار بیڑے کو مشرق وسطیٰ بھیجا گیا ہے۔ اس بیڑے کا مقصد امریکی وسطی کمان (CENTCOM) کے لیے کارروائی کے لیے تیار رہنا ہے۔
پینٹاگون کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ایران کے ساتھ بڑھتی کشیدگی کے پیش نظر کیا گیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مظاہروں اور حکومت کے جواب کے حوالے سے اعلان کیا کہ تمام ممکنہ آپشنز کھلے رکھے گئے ہیں اور اگر ایران مظاہرین پر تشدد جاری رکھے گا تو شدید فوجی کارروائی کی جائے گی۔
ایران پر امریکا کا ممکنہ حملہ عنقریب، عالمی خطرے کی وارننگ: برطانوی میڈیا
صدر ٹرمپ نے ایرانی عوام سے حکومت کے خلاف احتجاج جاری رکھنے کی اپیل کی اور امریکی شہریوں کو ایران چھوڑنے کی ہدایت بھی دی۔ دوسری جانب ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے حملہ کیا تو مشرق وسطیٰ میں موجود امریکی فوجی اڈے اور اتحادی ٹھکانے نشانہ بنائے جائیں گے۔
ایران نے مشرق وسطیٰ کے عرب ممالک بشمول سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر کو بھی پیغام دیا ہے کہ امریکی فوج کی نقل و حرکت پر نظر رکھیں۔ اس پیش رفت کے بعد خطے میں کشیدگی میں اضافہ متوقع ہے اور عالمی سطح پر بھی صورتحال پر تشویش پائی جا رہی ہے۔
