سینئر صحافی اور تجزیہ کار ارشاد بھٹی نے موجودہ حکمرانوں کو ملکی تباہی کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک یہی قیادت اقتدار میں رہے گی، ملک بھکاری ہی رہے گا اور عوام انسانی و بنیادی حقوق سے محروم رہیں گے۔
ان کے بقول ہمارے پاس سب کچھ ہے، مگر ویژن اور سنجیدہ قیادت کا فقدان ہے۔
نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ارشاد بھٹی نے کہا کہ اس قیادت سے نجات کے بغیر کوئی بہتری ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ لکھ لیں، بارش نہ ہو تو لوگ مریں گے، بارش ہو تو بھی مریں گے، زیادہ سیلاب ہو تب بھی، کم ہو تب بھی — کیونکہ یہ نظام، نااہلی اور کرپشن ہمیں کھا گئی ہے۔
ارشاد بھٹی نے وفاقی وزیر خواجہ آصف کے بیانات کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جب وہ خود کہہ رہے ہیں کہ کرپشن کی انتہا ہو چکی ہے، تو یہ پوچھنا بنتا ہے کہ یہ کرپشن کس نے روکنi تھی؟ اگر سڑکیں بہہ گئی ہیں تو ان کی نگرانی اور معیار چیک کرنا کس کی ذمہ داری تھی؟ آٹھ مرتبہ ایم این اے بننے والے خواجہ آصف نے خود کیا اقدامات کیے؟
جھنگ اور چنیوٹ کو بچانے کے لیے رواز پل کو توڑنے کا فیصلہ
انہوں نے کہا کہ اگر ہر بحران میں فوج ہی آتی ہے تو پھر سویلین ادارے کہاں ہیں؟ کیا ان اداروں کو بنانا حکومت کی ذمہ داری نہیں تھی؟ اگر سیالکوٹ جیسے شہر نے ایئرپورٹ اور ایئرلائن بنا لی، تو اتنا بھی نہیں کر سکتا کہ گھروں میں پانی نہ جائے؟
ارشاد بھٹی نے طنزیہ انداز میں کہا کہ بہتر ہے خواجہ آصف اس سیلاب کا الزام بھی جنرل باجوہ اور جنرل فیض پر ڈال دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ن لیگی قیادت صرف الزام تراشی میں مہارت رکھتی ہے، حل دینے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔
انہوں نے کہا کہ "آج بھی عوام ڈوبیں گے، کل بھی ڈوبیں گے، پرسوں بھی ڈوبیں گے، کیونکہ ان حکمرانوں نے کچھ نہیں کرنا۔” ارشاد بھٹی کے مطابق حکومتی ناکامی، بدنیتی اور بد انتظامی ہی ہر مصیبت کی اصل وجہ ہے۔