سندھ میں پولیس کے جاری آپریشن اور حکومت کی سرینڈر پالیسی کے نتیجے میں کچے کے مشہور ڈاکوؤں نے ہتھیار ڈالنا شروع کر دیے ہیں۔ سکھر کے علاقے بیلو باگرجی سے تعلق رکھنے والے قلندر بخش جتوئی، بشیر جتوئی اور شفیق جتوئی نے خود کو پولیس کے حوالے کیا ہے۔ یہ تینوں ملزمان مختلف سنگین نوعیت کے مقدمات میں مطلوب تھے اور کئی سالوں سے کچے کے علاقوں میں جرائم کی دھاک بٹھا رہے تھے۔ پولیس کے مطابق ان کی خودسرانہ کارروائیوں اور عوام کو ڈرانے دھمکانے کے واقعات سے خطہ کافی عرصے تک متاثر رہا۔
حالیہ دنوں میں سندھ اور پنجاب کی فورسز نے کچے کے علاقوں میں ایک بڑے آپریشن کا آغاز کیا، جس میں گزشتہ روز 8 ڈاکو ہلاک اور 15 زخمی ہوئے۔ اس کارروائی کے بعد ڈاکو خوفزدہ ہو کر پولیس کے سامنے ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہو گئے۔ پولیس کے ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلسل کارروائیوں اور گرفتاریوں نے کچے میں ڈاکوؤں کے گروہوں کی طاقت کو کمزور کر دیا ہے اور جرائم پیشہ عناصر اب سرنڈر پالیسی کے تحت خود کو قانونی عمل کے حوالے کر رہے ہیں۔
اس سے قبل بھی شر، لوند، انڈھڑ اور کوش گینگ سمیت مختلف جرائم پیشہ گروپس کے 180 سے زائد افراد نے پولیس کے سامنے ہتھیار ڈالے تھے۔ پولیس کے مطابق سرینڈر کرنے والے ڈاکوؤں کی تعداد میں اضافہ جاری ہے اور کچے کے علاقوں میں جرائم پیشہ عناصر کی حوصلہ شکنی کے لیے مزید آپریشنز کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔
کچے میں پولیس آپریشن میں بڑی پیش رفت، 90 فیصد علاقہ کلیئر ہونے کا دعویٰ
پولیس کے مطابق حکومت کی سرینڈر پالیسی نہ صرف جرائم پیشہ عناصر کے خلاف مؤثر ثابت ہو رہی ہے بلکہ یہ عوام کے لیے بھی ایک حوصلہ افزا قدم ہے، کیونکہ اس کے نتیجے میں کچے میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہو رہی ہے۔ پولیس نے مزید کہا کہ وہ کچے کے تمام علاقوں میں اپنی کارروائیاں جاری رکھیں گے تاکہ خطے کو جرائم سے مکمل طور پر آزاد کرایا جا سکے اور عوام کا اعتماد بحال ہو۔
