سابق وفاقی وزیر اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی نے ثابت کیا ہے کہ وہ سیاسی جماعت کے طور پر عوامی مسائل سے جڑی ہوئی ہے، جبکہ مسلم لیگ ن نے یہ واضح کر دیا ہے کہ ان کا اب سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔
انسداد دہشت گردی عدالت لاہور کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسد عمر نے کہا کہ ن لیگ ووٹ لے کر نہیں آئی، اگر وہ واقعی ووٹ لے کر آتی تو انہیں عوام کی مشکلات اور پریشانیوں کا ادراک ہوتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان جیسے ملک میں جمہوریت کے سوا کوئی حل نہیں، اور سیاسی جماعتوں کو مل بیٹھ کر ایک نیا میثاقِ جمہوریت بنانے کی ضرورت ہے۔
سابق وزیر نے ایران کی موجودہ صورتحال پر بھی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران میں صورتحال انتہائی خطرناک اور تشویشناک ہے، تاہم پاکستان نے اس معاملے میں مثبت کردار ادا کیا ہے۔
مزاحمت کے بعد مفاہمت ہی ہوتی ہے: شاہ محمود قریشی
قبل ازیں اسد عمر نے عدالت میں پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقات بھی کی اور ان کی خیریت دریافت کی۔
اسد عمر کے مطابق سیاسی اختلافات کے باوجود، مزاحمت کے بعد مفاہمت ہی ممکن ہے اور آئندہ کے لیے سب جماعتوں کو ایک ساتھ بیٹھ کر مشترکہ حکمت عملی طے کرنی ہوگی تاکہ ملکی استحکام اور جمہوری عمل کو مضبوط کیا جا سکے۔
یہ بیان سیاسی مبصرین کے لیے بھی اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ اس میں پاکستان کی موجودہ سیاسی جماعتوں کی پوزیشن اور عوامی مسائل کے حوالے سے ان کی وابستگی کی وضاحت کی گئی ہے۔
