پاکستان شوبز انڈسٹری کی سینئر اور نامور اداکارہ بشریٰ انصاری نے کہا ہے کہ موجودہ دور میں کامیڈی کا معیار مسلسل گرتا جا رہا ہے اور لوگ اب صاف ستھرے مزاح کے بجائے فحاشی اور گستاخانہ مواد پر ہنسنے لگے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ رجحان نہ صرف تشویشناک ہے بلکہ مجموعی طور پر ہماری اجتماعی ناکامی کی عکاسی بھی کرتا ہے۔
بشریٰ انصاری نے یہ خیالات سندھ مدرسۃ الاسلام یونیورسٹی میں منعقدہ پاپولر لیکچر سیریز کے دوران اظہارِ خیال کرتے ہوئے پیش کیے۔ انہوں نے انٹرٹینمنٹ انڈسٹری میں کامیڈی کے بدلتے ہوئے رجحانات پر کھل کر بات کی اور کہا کہ آج کل بعض کانٹینٹ کری ایٹرز اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز یہ سمجھنے لگے ہیں کہ بے ہودہ زبان اور گستاخانہ رویہ ہی کامیڈی ہے، حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔
اداکارہ کا کہنا تھا کہ ماضی میں فنکار سادہ، شائستہ اور بامقصد مزاح کے ذریعے لوگوں کو ہنسایا کرتے تھے اور وہ خود آج بھی اسی روایت پر قائم ہیں۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر آج فحش یا غیر معیاری مواد بنانے والے افراد کو زیادہ کامیابی مل رہی ہے تو یہ اس معاشرے اور اس انڈسٹری کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔
بشریٰ انصاری نے جعلی چندہ اکاؤنٹس سے خبردار کیا، مداحوں سے رپورٹ کرنے کی اپیل
بشریٰ انصاری نے پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری میں کہانیوں کے بار بار دہرائے جانے کے رجحان پر بھی تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ پروڈکشن ہاؤسز اب ڈراموں کو محض ایک کاروبار سمجھتے ہیں اور منافع کے حصول کے لیے وہی موضوعات منتخب کرتے ہیں جو پہلے مقبول ہو چکے ہوں، جس کے باعث تخلیقی صلاحیت متاثر ہو رہی ہے۔
اداکارہ نے اپنی ذاتی زندگی کے بارے میں بات کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ انہوں نے 60 سال کی عمر میں اپنے شوہر اقبال حسین سے دوسری شادی کی۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اس فیصلے پر خوشی ہے کیونکہ انہیں اقبال حسین کی صورت میں ایک اچھا ساتھی ملا، جن کے ساتھ باہمی احترام اور سمجھ بوجھ کا رشتہ قائم ہے۔
بشریٰ انصاری کا کہنا تھا کہ زندگی کے ہر مرحلے پر خوشی اور سکون ممکن ہے، بشرطیکہ انسان خود سے اور اپنے فیصلوں سے مطمئن ہو۔
