یاسین ملک کی جان لینے کی کوشش کی تو سب ہاتھ ملتے رہ جائیں گے، مشعال ملک

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

 کشمیری حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال حسین ملک نے خبردار کیا ہے کہ 28 جنوری کو یاسین ملک کو سزا سنانے کا شدید خدشہ ہے، اور اگر بھارت نے ان کی جان لینے کی کوشش کی تو اس کے نتائج ایک بڑے دھماکے کی صورت میں سامنے آئیں گے جس پر دنیا ہاتھ ملتی رہ جائے گی۔

latest urdu news

پانچ جنوری، یومِ حقِ خودارادیت کے موقع پر راولپنڈی پریس کلب کے باہر تاجر نمائندوں کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مشعال ملک نے کہا کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی پالیسیاں خطے ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے امن کے لیے خطرہ بن چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کلبھوشن یادیو کا مقدمہ عالمی عدالت انصاف میں لے جایا جا سکتا ہے تو حکومت پاکستان یاسین ملک کا کیس بھی عالمی عدالت میں لے کر جائے۔

مقبوضہ کشمیر کی بہادر خواتین کو سلام، مشعال ملک

مشعال ملک نے کہا کہ یاسین ملک کی رہائی کے لیے نومبر سے ملک گیر عوامی رابطہ مہم شروع کر رکھی ہے، جس کے تحت پہلی بار گلی محلوں میں جا کر عوام کو مکمل حقائق سے آگاہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے نریندر مودی، اجیت دوول اور راہول گاندھی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ بارود کے ڈھیر پر کھڑا ہے، اگر یہ پھٹ گیا تو اس کے ذمہ دار صرف مودی ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت دونوں جوہری طاقتیں ہیں اور ایشیا ایک نیوکلیئر ٹپنگ پوائنٹ بن چکا ہے، جس کا اظہار خود آرمی چیف بھی کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ معرکۂ حق میں بھارت کو بدترین شکست کے بعد مودی اور اجیت دوول نے اپنی ناکامی کا غصہ یاسین ملک اور ان کے خاندان پر نکالا۔

مشعال ملک نے مزید کہا کہ بھارت کے اندر بھی مودی پر شدید تنقید ہو رہی ہے، بھارتی اپوزیشن اور آر ایس ایس تک یہ ماننے پر مجبور ہو چکی ہے کہ مودی نے تمام ریڈ لائنز عبور کر لی ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مسئلہ کشمیر حل نہ ہوا تو خطے میں چین اور بنگلہ دیش سمیت دیگر ممالک کا ردعمل بھی سامنے آئے گا اور آگ کسی کے قابو میں نہیں رہے گی۔

ایک سوال کے جواب میں مشعال ملک نے کہا کہ بھارت میں اقلیتوں کی حالت مقبوضہ کشمیر سے بھی بدتر ہے۔ انہوں نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ دفتر خارجہ میں ایک مضبوط لیگل سیل قائم کیا جائے، اقوام متحدہ میں یاسین ملک کے حوالے سے پٹیشن دائر کی جا چکی ہے اور کشمیر کے لیے ایک مستقل سفیر مقرر کیا جانا چاہیے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter