لاہور میں بسنت کی خوشیاں ماند پڑ گئیں، ایک نوجوان جان سے گیا، متعدد افراد زخمی

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

لاہور میں بسنت کے موقع پر جہاں شہر بھر میں رنگا رنگ پتنگوں اور خوشیوں کا سماں دکھائی دیا، وہیں چند افسوسناک واقعات نے اس تہوار کی خوشیوں کو گہنا دیا۔

latest urdu news

مختلف علاقوں میں پیش آنے والے حادثات کے نتیجے میں ایک نوجوان جاں بحق جبکہ کم از کم پانچ افراد زخمی ہو گئے، جن میں بچے اور نوجوان بھی شامل ہیں۔

ریسکیو حکام کے مطابق سب سے افسوسناک واقعہ باغبانپورہ کے علاقے میں پیش آیا، جہاں سکھ نہر کے قریب 25 سالہ علی رشید کٹی پتنگ حاصل کرنے کی کوشش میں بجلی کے کھمبے پر چڑھ گیا۔ اس دوران وہ اچانک بجلی کے کرنٹ کی زد میں آ گیا، جس کے باعث موقع پر ہی اس کی موت واقع ہو گئی۔ اہل علاقہ کے مطابق علی رشید نوجوان تھا اور بسنت منانے کے شوق میں یہ خطرناک قدم اٹھایا۔

بسنت کی گہما گہمی عروج پر، خرید و فروخت ایک ارب 22 کروڑ سے تجاوز کر گئی

دوسری جانب ڈیفنس فیز فائیو میں ایک اور حادثہ پیش آیا، جہاں پتنگ کی تیز دھار ڈور ایک نوجوان رافع کی گردن کے گرد پھر گئی، جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہو گیا۔ زخمی نوجوان کو فوری طور پر طبی امداد فراہم کی گئی، جبکہ واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

اسی طرح گلشن راوی میں بھی بسنت کے دوران پتنگ کی ڈور سے پیش آنے والے واقعات رپورٹ ہوئے۔ ایک واقعے میں آٹھ سالہ ارسا اور پینتالیس سالہ شبیر پتنگ کی ڈور پھرنے سے زخمی ہو گئے۔ دونوں زخمیوں کو ریسکیو ٹیم نے بروقت اسپتال منتقل کیا، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔

ریسکیو حکام نے بتایا کہ لوئر مال کے علاقے میں 12 سالہ عبد الواحد پتنگ لوٹتے ہوئے زخمی ہو گیا۔ حکام کے مطابق بچے کو معمولی چوٹیں آئیں، تاہم اسے احتیاطی طور پر اسپتال منتقل کیا گیا۔ ایک اور واقعہ گلشن راوی ہی میں پیش آیا، جہاں 14 سالہ سلمان درخت پر پھنسی ہوئی پتنگ اتارنے کی کوشش کر رہا تھا کہ توازن بگڑنے کے باعث وہ نیچے گر کر زخمی ہو گیا۔

ان واقعات کے بعد شہریوں اور سماجی حلقوں کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ بسنت جیسے تہوار خوشیوں کے لیے ہوتے ہیں، مگر لاپرواہی اور غیر محفوظ طریقوں کے باعث قیمتی جانوں کا ضیاع ہو جاتا ہے۔ شہریوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ حفاظتی اقدامات کو مزید مؤثر بنائے اور عوام بھی ذمہ داری کا مظاہرہ کریں تاکہ مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات سے بچا جا سکے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter