وفاقی دارالحکومت میں مساجد کی سکیورٹی کے انتظامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔ اسلام آباد پولیس نے مساجد انتظامیہ کی جانب سے سکیورٹی کے لیے دیے گئے مراسلے پر جواب جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ عبادت کے اوقات میں ہر مسجد میں کم از کم ایک مسلح سکیورٹی گارڈ تعینات کیا جائے گا، اور اسے اسلحہ مسجد کی حدود میں رکھنے کی اجازت ہوگی۔
پولیس کے مراسلے کے مطابق مساجد کے داخلے اور خارجی راستے محدود کر دیے جائیں گے اور اردگرد کی پارکنگ کی اجازت نہیں ہوگی۔ مسجد یا امام بارگاہ میں داخل اور نکلنے کے لیے صرف ایک مقررہ راستہ استعمال کیا جائے گا تاکہ سکیورٹی سختی سے برقرار رکھی جا سکے۔
مزید برآں، مسجد کے مین گیٹ کے باہر ریڑھی بان، گداگر، ٹوپیاں اور دیگر اشیاء کی خرید و فروخت پر مکمل پابندی ہوگی۔ انتظامیہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ مشکوک افراد، سرگرمیوں یا سامان کی فوری اطلاع پولیس کو دیں تاکہ کسی بھی قسم کے خطرے سے بروقت نمٹا جا سکے۔
اسلام آباد پولیس نے واضح کیا ہے کہ مساجد اور امام بارگاہوں کی انتظامیہ کو تمام ہدایات پر فوری عمل درآمد کرنا ہوگا، اور خلاف ورزی کی صورت میں قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ یہ اقدامات عبادت گزاروں کی حفاظت اور مذہبی مقامات پر نظم و ضبط قائم رکھنے کے لیے کیے گئے ہیں۔
