ایران کی طاقتور فورس پاسداران انقلاب نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران سے مذاکرات کے دعوؤں کو یکسر مسترد کر دیا ہے اور انہیں حقیقت کے برعکس قرار دیا ہے۔
پاسداران انقلاب کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے اپنے بیان میں کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ امریکا کے اندرونی اختلافات اس حد تک بڑھ چکے ہیں کہ وہ خود ہی مذاکرات کے دعوے کر رہا ہے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ٹرمپ اپنی ناکامی کو معاہدے کا نام دینے کی کوشش نہ کریں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کسی بھی دباؤ میں آ کر اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے گا اور نہ ہی عالمی منڈی میں تیل کی پرانی قیمتیں یا سابقہ نظام واپس آئے گا۔ ان کے مطابق ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کا خیال ترک کر دینا چاہیے کیونکہ تہران کا مؤقف اس حوالے سے واضح اور دوٹوک ہے۔
ابراہیم ذوالفقاری کا کہنا تھا کہ ایران امریکا کے ساتھ کسی ایسے راستے پر چلنے کے لیے تیار نہیں جو اس کے قومی مفادات کے خلاف ہو، اور اس حوالے سے ایران کا فیصلہ حتمی ہے۔
ٹرمپ کے مقابلے میں ایران کی باتوں پر زیادہ یقین ہے:سابق سی آئی اے
واضح رہے کہ اس سے قبل صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران جوہری ہتھیار نہ بنانے پر آمادہ ہو چکا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان کسی ممکنہ معاہدے کی راہ ہموار ہو رہی ہے، تاہم ایرانی حکام مسلسل ان دعوؤں کی تردید کر رہے ہیں۔
