امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ممکنہ مذاکرات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران اب بات چیت کر رہا ہے اور وہ نہیں چاہتا کہ امریکا اس کے خلاف کوئی عسکری کارروائی کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکا خطے کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور اپنی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
واشنگٹن میں نیشنل پریئر بریک فاسٹ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا کا ایک بڑا بحری بیڑا ایران کی سمت روانہ ہو چکا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکا اپنی دفاعی صلاحیتوں اور مفادات کے تحفظ کے لیے ہر وقت تیار ہے۔ ان کے مطابق طاقت کا مظاہرہ بعض اوقات امن قائم رکھنے کے لیے ضروری ہو جاتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنی پہلی صدارتی مدت کے دوران عراق کے دورے کا بھی حوالہ دیا اور ذاتی انداز میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں طویل فضائی سفر کے دوران سونا پسند نہیں۔ انہوں نے ہلکے پھلکے انداز میں کہا کہ وہ جہاز میں بیٹھ کر کھڑکی سے باہر دیکھنا زیادہ بہتر سمجھتے ہیں تاکہ ممکنہ خطرات، میزائلوں یا دشمنوں پر نظر رکھی جا سکے۔ ان کے اس جملے پر تقریب میں موجود شرکا نے مسکراہٹوں کے ساتھ ردعمل دیا۔
ٹرمپ کا سخت لہجہ، ایرانی سپریم لیڈر کو خبردار کر دیا
امریکی صدر نے نیشنل پریئر بریک فاسٹ کو امریکا کی ایک بہترین اور قدیم روایت قرار دیا اور کہا کہ یہ تقریب مختلف سیاسی، مذہبی اور سماجی پس منظر رکھنے والے افراد کو ایک جگہ اکٹھا کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ ان کے مطابق دعا اور روحانیت قوموں کو جوڑنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب دنیا کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے۔
