ایران کے لیے امریکی بحری طاقت کی پیش قدمی

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا نے ایران کی سمت اپنا بحری بیڑہ روانہ کر دیا ہے۔

latest urdu news

تاہم ان کے نزدیک اس طاقت کو عملی طور پر استعمال نہ کرنا ہی زیادہ دانشمندانہ راستہ ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا خطے میں اپنی دفاعی صلاحیت اور دباؤ برقرار رکھنا چاہتا ہے، مگر کسی نئی جنگ یا فوجی تصادم سے گریز کو ترجیح دی جا رہی ہے۔

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے بتایا کہ اس وقت امریکی بحریہ کے کئی بڑے اور انتہائی طاقتور جنگی جہاز ایران کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام احتیاطی تدبیر کے طور پر کیا گیا ہے اور اس کا مقصد صرف یہ پیغام دینا ہے کہ امریکا اپنے مفادات کے تحفظ کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ صدر ٹرمپ نے امید ظاہر کی کہ حالات اس نہج تک نہیں پہنچیں گے جہاں فوجی کارروائی کی ضرورت پیش آئے۔

ٹرمپ نے منی سوٹا واقعے میں ہلاک شہری کو قصوروار ٹھہرا دیا

امریکی صدر نے واضح کیا کہ واشنگٹن ایران کے ساتھ سفارتی راستہ بند نہیں کرنا چاہتا۔ ان کے مطابق ایران کے ساتھ ماضی میں بھی بات چیت ہو چکی ہے اور مستقبل میں بھی مذاکرات کے دروازے کھلے رہیں گے۔ ٹرمپ نے کہا کہ اختلافات کے باوجود امریکا کا ماننا ہے کہ بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل نکالا جا سکتا ہے، بشرطیکہ دونوں فریق سنجیدگی کا مظاہرہ کریں۔

گفتگو کے دوران صدر ٹرمپ نے عالمی تجارت اور جیو پولیٹیکل معاملات پر بھی اظہار خیال کیا۔ انہوں نے چین کے ساتھ تجارتی تعلقات کو برطانیہ کے لیے خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ بیجنگ کے ساتھ بڑھتا ہوا کاروباری تعاون لندن کے لیے طویل المدت مسائل پیدا کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چین کی معاشی اور سیاسی حکمت عملی کو نظرانداز کرنا اتحادی ممالک کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ کینیڈا کے لیے چین کے ساتھ کاروبار کرنا برطانیہ سے بھی زیادہ خطرناک ہو سکتا ہے۔ انہوں نے اتحادی ممالک کو خبردار کیا کہ چین کے ساتھ تجارتی روابط بڑھاتے وقت انہیں انتہائی محتاط رہنے کی ضرورت ہے، کیونکہ اس کے اثرات صرف معیشت تک محدود نہیں رہتے بلکہ قومی سلامتی پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

کیوبا کے حوالے سے بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ ان کے خیال میں کیوبا کی موجودہ حکومت زیادہ عرصہ قائم نہیں رہ سکے گی۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ کیوبا کو اندرونی سیاسی اور معاشی دباؤ کا سامنا ہے، جو مستقبل میں بڑی تبدیلیوں کا سبب بن سکتا ہے۔

صدر ٹرمپ کے یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب عالمی سطح پر سیاسی کشیدگی، تجارتی تنازعات اور سفارتی دباؤ میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے، اور امریکا اپنی خارجہ پالیسی میں طاقت اور مذاکرات کے امتزاج کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter