واشنگٹن: امریکی صدر Donald Trump نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے بطور ’تحفہ‘ آبنائے ہرمز سے 10 آئل ٹینکرز کو گذرنے کی اجازت دی تاکہ مذاکرات کے لیے اپنی سنجیدگی ظاہر کی جا سکے۔
جمعرات کو کابینہ کے اجلاس کے دوران ٹرمپ نے کہا کہ یہ اقدام ایران کی جانب سے مذاکرات کے لیے خیر سگالی کی علامت کے طور پر کیا گیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ان ٹینکرز پر ممکنہ طور پر پاکستانی جھنڈے لگے ہوئے تھے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ’صحیح لوگوں‘ کے ذریعے روانہ کیے گئے تھے۔
صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران نے ماضی میں کہی گئی بعض باتوں پر معذرت بھی کی اور کہا کہ مزید دو آئل ٹینکرز بھی بھیجے جائیں گے، جس سے مجموعی تعداد 10 ہو گئی۔
ایران سے مذاکرات میں پیش رفت قریب:ٹرمپ کا دعویٰ
تاہم ایران نے امریکی صدر کے مذاکرات کے دعوؤں کی تردید کی ہے۔ دوسری جانب، ٹرمپ کے نمائندہ خصوصی اور پاکستان کے وزیرِ خارجہ Ishaq Dar نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ جنگ بندی کے لیے 15 نکاتی امریکی منصوبہ اسلام آباد کے ذریعے تہران تک پہنچایا گیا تھا۔
ایران نے اس منصوبے پر منفی ردعمل ظاہر کیا اور سرکاری میڈیا کے ذریعے جنگ بندی کے لیے پانچ شرائط بھی رکھی ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مذاکرات ابھی تک پیچیدہ اور حساس نوعیت کے حامل ہیں۔
