بھارت میں مقیم مفرور بنگلادیشی رہنما اور سابق وزیرِاعظم شیخ حسینہ واجد نے بنگلادیش میں عبوری حکومت کے زیرِ اہتمام عام انتخابات کو غیر شفاف اور ڈرامہ قرار دیا ہے۔
شیخ حسینہ نے کہا کہ محمد یونس کی عبوری حکومت کے تحت کرائے گئے انتخابات دراصل ایک "منصوبہ بند تماشا” ہیں۔ انہوں نے اپنی جماعت عوامی لیگ کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ عوام کے حقِ رائے دہی، جمہوری اقدار اور آئین کی روح کو مکمل طور پر نظرانداز کیا گیا۔ ان کے مطابق عوامی لیگ کے بغیر کرائے گئے اس فریب پر مبنی انتخاب میں ووٹرز کی حقیقی شمولیت نہیں تھی اور اس میں شفافیت بالکل موجود نہیں تھی۔
شیخ حسینہ واجد نے دعویٰ کیا کہ 12 فروری کی صبح تک ملک بھر کے بیشتر پولنگ اسٹیشنز پر ووٹر ٹرن آؤٹ نہ ہونے کے برابر تھا، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ عوامی لیگ کے بغیر کرائے گئے انتخابات کو عوام نے مسترد کیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ یہ انتخابات منسوخ کیے جائیں اور ملک میں ایک غیر جانبدار نگراں حکومت کے تحت آزاد اور منصفانہ انتخابات کروائے جائیں، جن میں تمام جماعتوں اور ووٹرز کو حصہ لینے کی مکمل آزادی ہو۔
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بھارت بنگلہ دیشی صحافیوں کی کوریج پر پابندی
خیال رہے کہ شیخ حسینہ نے اپنے دور حکومت میں آئینی ترمیم کے ذریعے نگران حکومت کے تحت انتخابات کروانے کی شق کو ختم کر دیا تھا۔ اگست 2024 میں طلبہ احتجاج اور پرتشدد مظاہروں کے دوران 1000 سے زائد افراد کی ہلاکت کے بعد وہ اپنا عہدہ چھوڑ کر بھارت فرار ہو گئی تھیں۔
یہ بیانات بنگلادیش کے سیاسی منظرنامے میں نئی ہنگامہ خیزی پیدا کر سکتے ہیں، جہاں عبوری حکومت کے تحت انتخابات کی شفافیت پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
