کئی برس کے طویل وقفے کے بعد لاہور ایک بار پھر بسنت کے رنگوں میں نہا گیا ہے۔ شہر کی فضا خوشی، جوش اور رنگ برنگی پتنگوں سے سجی ہوئی ہے۔
گلی محلوں سے لے کر چھتوں تک، ہر طرف بسنت کا سماں نظر آ رہا ہے۔ پنجاب بھر میں خواتین، بچے، نوجوان اور بزرگ سب ہی اس تہوار کو اپنے اپنے انداز میں انجوائے کر رہے ہیں، اور لاہور کی رونقیں ماضی کی یاد تازہ کر رہی ہیں۔
لاہور کی سڑکیں، گلیاں اور چھتیں پتنگوں سے آراستہ ہیں۔ اگرچہ پتنگ اور ڈور کی قیمتیں خاصی زیادہ ہیں، اس کے باوجود شہر بھر میں یہ اشیاء نایاب ہو چکی ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام بڑی تعداد میں بسنت منانے میں مصروف ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ برسوں بعد اس تہوار کی واپسی نے نہ صرف بچوں بلکہ بڑوں کے چہروں پر بھی مسکراہٹیں بکھیر دی ہیں۔
پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری، جنہوں نے خود بھی بسنت کی خوشیوں میں شرکت کی، اس موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ اس تہوار کے دوران کوئی کسی کو تنگ نہیں کر رہا اور سب لوگ اپنی مستی میں مگن ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بسنت خوشیوں، رنگوں اور آپسی ہم آہنگی کا تہوار ہے، اور دعا ہے کہ یہ خوشیاں تین دن تک قائم رہیں اور کسی کی نظر بد نہ لگے۔
اہور میں بسنت کی خوشیاں ماند پڑ گئیں، ایک نوجوان جان سے گیا، متعدد افراد زخمی
عظمیٰ بخاری نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ عوام اس تہوار کو ذمہ داری اور احتیاط کے ساتھ منائیں گے تاکہ خوشیوں کا یہ سلسلہ بغیر کسی ناخوشگوار واقعے کے جاری رہے۔ حکومت پنجاب کی جانب سے بسنت کے موقع پر آج اور کل عام تعطیل کا اعلان بھی کیا گیا ہے، جس کے باعث لوگوں کو کھل کر اس تہوار سے لطف اندوز ہونے کا موقع ملا ہے۔
تاہم خوشیوں کے اس ماحول کے ساتھ کچھ افسوسناک خبریں بھی سامنے آئی ہیں۔ لاہور میں بسنت کے دوران مختلف واقعات میں ایک شخص جان کی بازی ہار گیا جبکہ پانچ افراد زخمی ہو گئے۔ ان واقعات نے اس بات کی یاد دہانی کرائی ہے کہ بسنت مناتے وقت احتیاطی تدابیر اختیار کرنا بے حد ضروری ہے۔
شہریوں اور انتظامیہ دونوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ خوشیوں کے اس تہوار کو محفوظ اور پرامن بنائیں، تاکہ بسنت واقعی خوشی، رنگ اور زندگی کی علامت بن کر سامنے آئے۔
