پاکستان کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بولر حارث رؤف نے کہا ہے کہ کسی بھی کھلاڑی پر تنقید اور کھلاڑی کے ساتھ بدتمیزی میں واضح فرق ہونا چاہیے، تاہم بعض لوگ اس حد کو کراس کر دیتے ہیں۔ انہوں نے اپنے ایک خصوصی انٹرویو میں کپتان کے کردار اور کرکٹ کی مختلف کنڈیشنرز کے بارے میں بھی روشنی ڈالی۔
حارث رؤف نے بتایا کہ کپتان کا کھلاڑی کی کارکردگی میں بڑا کردار ہوتا ہے اور پاکستان کے میچ ہارنے پر قومی کھلاڑی بھی دُکھی ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی پاکستان کے لیے کھیلا، ہمیشہ اپنی پوری کوشش کی، اور ان کا کردار وکٹیں لینا رہا ہے، نہ کہ صرف رنز روکنا۔ انہوں نے بتایا کہ سب سے مشکل کام آخری اوورز میں بولنگ کرنا ہوتا ہے، جسے ڈیتھ اوورز کہا جاتا ہے، اور یہ ہر فاسٹ بولر کے لیے چیلنج ہوتا ہے۔
آئی سی سی نے حارث رؤف پر 2 میچز کی پابندی اور جرمانہ عائد کردیا
حارث رؤف نے بگ بیش لیگ کے تجربات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ میلبرن اسٹارز کے کپتان مارنس اسٹونس نے ان کے کیریئر میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے بتایا کہ بگ بیش میں انہیں کہا گیا کہ دفاعی انداز میں بولنگ کرنے کی ضرورت نہیں، بلکہ صرف وکٹیں لینا ان کا رول ہے، اور دنیا کے بڑے بیٹرز ان سے ڈرتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ رنز روکنے والی آسان بولنگ بھی کر سکتے ہیں، لیکن ان کا رول وکٹیں لینا ہے، اور لوگوں کو اسے سمجھنا چاہیے۔
حارث رؤف نے پی ایس ایل اور بگ بیش کی کنڈیشنرز کے فرق پر بھی بات کی، کہا کہ بگ بیش عالمی معیار کی بڑی لیگ ہے جبکہ پی ایس ایل تیزی سے بڑی لیگ بنتی جارہی ہے اور آنے والے دنوں میں غیر ملکی بڑے کھلاڑی پاکستان آئیں گے۔
انہوں نے حالیہ پرفارمنس کے بارے میں کہا کہ ایشیا کپ کے بعد تسلسل کے ساتھ کھیل رہے ہیں، لیکن پھر بھی بعض لوگ ان پر تنقید کرتے ہیں۔ حارث نے مزید کہا کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے اسکواڈ میں شامل نہ ہونے پر افسوس ضرور ہوگا، مگر یہ ان کے کیریئر کا اختتام نہیں، وہ اپنی بولنگ پر مزید کام کریں گے اور قومی ٹیم کے لیے نیک خواہشات رکھتے ہیں۔
حارث رؤف کے مطابق، کسی بھی کھلاڑی کو بنانے اور خراب کرنے میں کپتان کی سوچ اور حکمت عملی اہم کردار ادا کرتی ہے، اور کپتان کی ذمہ داری ہے کہ کھلاڑی کی صلاحیتوں کا بہترین استعمال کرے۔
