ڈکی بھائی اور دیگر ملزمان پر فردِ جرم عائد کرنے کی تاریخ مقرر

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

 معروف یوٹیوبر سعد الرحمٰن المعروف ڈکی بھائی، ان کی اہلیہ عروب جتوئی اور دیگر ملزمان کے خلاف آن لائن جوئے کی تشہیر کے مقدمے میں اہم پیش رفت سامنے آ گئی ہے۔

latest urdu news

جوڈیشل مجسٹریٹ نعیم وٹو نے مقدمے کی سماعت کے دوران 16 جنوری 2026 کو ملزمان پر فردِ جرم عائد کرنے کی تاریخ مقرر کر دی ہے۔

سماعت کے دوران عدالت نے ڈکی بھائی کو واضح طور پر آگاہ کیا کہ عدالتی اجازت کے بغیر یوٹیوب چینل پر ولاگنگ یا کسی قسم کا مواد اپ لوڈ کرنا غیر قانونی ہے۔ عدالت نے کہا کہ اس مقصد کے لیے باقاعدہ تحریری درخواست دینا ضروری ہے اور بغیر اجازت سرگرمیاں جاری رکھنا قانون کی خلاف ورزی تصور ہو گی۔

ڈکی بھائی نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ انہوں نے گزشتہ سماعت میں جمع کروائے گئے حلف نامے کے ذریعے ولاگنگ کی اجازت حاصل کر لی تھی۔ تاہم جوڈیشل مجسٹریٹ نے اس وضاحت کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی شخص خود کو اجازت نہیں دے سکتا، بلکہ اجازت دینے کا اختیار صرف عدالت کے پاس ہے۔

ڈکی بھائی نے جوا ایپس کیس میں رہائی کے بعد قوم سے معافی مانگ لی

عدالت نے مزید استفسار کیا کہ آیا ملزم ولاگنگ جاری رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں یا نہیں۔ اس پر ڈکی بھائی کے وکیل نے بتایا کہ فی الحال ان کا مؤکل اپنے یوٹیوب چینل پر کوئی مواد اپ لوڈ نہیں کر رہا اور انہیں یہ بھی واضح نہیں کہ کس نوعیت کی اجازت درکار ہے۔ اس پر عدالت نے واضح کیا کہ مقدمے کا مرکزی نکتہ ڈکی بھائی کا یوٹیوب چینل ہے، جو اس وقت نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی تحویل میں ہے۔

مجسٹریٹ نے کہا کہ ملزم دیگر پلیٹ فارمز پر ولاگنگ کر سکتے ہیں، تاہم ضبط شدہ یوٹیوب چینل پر کسی بھی قسم کی ویڈیو اپ لوڈ کرنا غیر قانونی ہو گا۔ عدالت کے مطابق اس چینل کو تفتیش کے دوران بطور شواہد تحویل میں لیا گیا ہے، اس لیے اس پر کسی بھی سرگرمی کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

پراسیکیوشن نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان نے اپنے یوٹیوب چینل اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے آن لائن بیٹنگ اور جوئے کی ایپس کی تشہیر کی، جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں صارفین متاثر ہوئے۔ استغاثہ کے مطابق یہ عمل ملکی قوانین اور سائبر کرائم قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے، جبکہ تحقیقات سے یہ بھی ثابت ہوا کہ مواد کے ذریعے بالواسطہ طور پر جوئے کی حوصلہ افزائی کی جا رہی تھی۔

این سی سی آئی اے کی مکمل تفتیش کے بعد ملزمان کے خلاف باقاعدہ فوجداری کارروائی کا آغاز کیا گیا اور مزید غیر قانونی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے متعلقہ یوٹیوب چینل کو منجمد کر دیا گیا۔ اس مقدمے میں ڈکی بھائی کی اہلیہ عروب جتوئی کو بھی چینل کے مواد کے انتظام اور جوئے سے متعلق تشہیری سرگرمیوں میں مبینہ کردار کے باعث نامزد کیا گیا ہے۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ یہ کیس اس بات کی واضح مثال ہے کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر مواد بنانے والے افراد اور ان کے اہلِ خانہ بھی پاکستانی سائبر قوانین کے تحت جوابدہ ہو سکتے ہیں۔ عدالت نے تمام فریقین کو ہدایت کی کہ آئندہ سماعت پر فردِ جرم کے لیے مکمل تیاری کے ساتھ پیش ہوں۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter