بی وائے ڈی نے ٹیسلا کو پیچھے چھوڑا، 2025 میں 22 لاکھ 50 ہزار گاڑیاں فروخت

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

کراچی: چین کی الیکٹرک گاڑیاں بنانے والی کمپنی بی وائے ڈی (BYD) نے 2025 میں فروخت کے لحاظ سے ایلون مسک کی ٹیسلا کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بی وائے ڈی نے سال 2025 میں 22 لاکھ 50 ہزار سے زائد الیکٹرک گاڑیاں فروخت کیں، جبکہ امریکی کمپنی ٹیسلا تقریباً 16 لاکھ بیٹری سے چلنے والی گاڑیاں بیچ سکی۔

latest urdu news

ٹیسلا کی فروخت پر ایلون مسک کی سیاسی سرگرمیوں کے باعث دباؤ اور تنقید بھی اثر انداز ہوئی، جبکہ بی وائے ڈی کی سخت مسابقت نے کمپنی کی عالمی مارکیٹ میں بڑھتی ہوئی پیش قدمی کو مزید نمایاں کیا۔

بی وائے ڈی نہ صرف الیکٹرک گاڑیاں تیار کرتی ہے بلکہ بیٹری ٹیکنالوجی، بسیں اور توانائی کے جدید حل بھی پیش کرتی ہے۔ کمپنی کی کم قیمت، جدید بیٹری سسٹمز اور مضبوط پیداواری صلاحیت نے اسے عالمی مارکیٹ میں تیزی سے مستحکم مقام دلایا ہے، جس کی وجہ سے بی وائے ڈی ٹیسلا سمیت دیگر بڑی الیکٹرک گاڑی بنانے والی کمپنیوں کے لیے بڑا چیلنج بن گئی ہے۔

صرف 5 منٹ چارجنگ سے 500 میل سفر؟ نئی چینی بیٹری نے ٹیسلا اور BYD کو پیچھے چھوڑ دیا

ماہرین کا کہنا ہے کہ بی وائے ڈی کی کامیابی دنیا بھر میں الیکٹرک گاڑیوں کے شعبے میں مسابقت اور جدت کو بڑھانے کا باعث بنے گی۔ کمپنی کی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی مقبولیت اس بات کا بھی اشارہ ہے کہ صارفین اب جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ سستی اور قابل اعتماد الیکٹرک گاڑیوں کی جانب زیادہ راغب ہو رہے ہیں۔

بی وائے ڈی کی یہ کارکردگی اس بات کو بھی ظاہر کرتی ہے کہ چین کی الیکٹرک وہیکل انڈسٹری اب عالمی سطح پر ایلوم مسک کی ٹیسلا کے لیے حقیقی حریف بن چکی ہے، اور مستقبل میں مزید مسابقت اور ترقی کے امکانات روشن نظر آ رہے ہیں۔

شیئر کریں:

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter