قومی اسمبلی کے سابق سپیکر اور پی ٹی آئی کے مرکزی رہنما اسد قیصر نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزاؤں کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے فیصلوں سے لگتا ہے کہ ملک میں انصاف کا نظام ختم ہو گیا ہے۔
میڈیا سے گفتگو میں اسد قیصر نے کہا کہ اس قسم کے فیصلے عدالتوں پر عوام کے اعتماد کو کمزور کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں ملک میں جمہوریت کے اصول کمزور ہیں اور عوام کو اپنے لیڈرشپ خود منتخب کرنے کا حق ہونا چاہیے۔ انہوں نے وکلاء پر زور دیا کہ وہ قانون اور انصاف کے لیے اٹھ کھڑے ہوں اور ملک میں فری اینڈ فیئر انتخابات کروائے جائیں۔
اسد قیصر نے غزہ امن بورڈ کی شمولیت پر بھی تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ پارلیمنٹ یا کابینہ کو اعتماد میں لیے بغیر اس فیصلے پر عملدرآمد کیا گیا، جبکہ اس پر پارلیمنٹ میں بحث ہونا چاہیے تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی آزاد ہونی چاہیے اور کسی بلاک کا حصہ بننے کی بجائے تمام پڑوسیوں کے ساتھ بہتر تعلقات قائم رکھنے چاہئیں۔
ایمان مزاری اور ہادی علی کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا
وفاقی حکومت کی وادی تیراہ آپریشن کے حوالے سے جاری پریس ریلیز پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر کسی کاروائی یا فیصلہ سازی میں وفاقی حکومت نے صوبائی حکومت کو اعتماد میں نہیں لیا تو اس کے نتائج نقصان دہ ہوں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی نے ہمیشہ آپریشن کی مخالفت نہیں کی بلکہ طریقہ کار پر اختلاف ہے اور امن، تعلیم اور روزگار کے فروغ کے لیے نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد چاہتے ہیں۔
اسد قیصر نے زور دیا کہ اگر کسی بھی اقدام سے قبل سیاسی جماعتوں سے مشاورت کی جاتی تو غلط فیصلے کم کیے جا سکتے تھے اور صوبے کے عوام کے مفاد میں بہتر نتائج حاصل کیے جا سکتے تھے۔
