پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی نے ٹیسٹ کرکٹر احمد شہزاد اور سابق کرکٹر عمر اکمل کی فرنچائز کرکٹ میں عدم شمولیت پر اظہارِ تشویش کیا ہے اور کہا ہے کہ دونوں کھلاڑی معیاری ہیں اور انہیں کم از کم ایک ٹیم میں جگہ دی جانی چاہیے تھی۔
پی ایس ایل کے 11ویں ایڈیشن سے قبل ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے بوم بوم آفریدی نے کہا کہ ایسے تجربہ کار کھلاڑیوں کو مکمل طور پر نظر انداز کرنا مسئلہ بن جاتا ہے، خصوصاً جب وہ مسلسل ڈومیسٹک کرکٹ کھیل رہے ہوں اور اپنی فٹنس برقرار رکھے ہوئے ہوں۔
شاہد آفریدی نے مزید کہا کہ احمد شہزاد اور عمر اکمل دونوں باقاعدگی سے پریکٹس اور ٹریننگ سیشنز میں حصہ لے رہے ہیں اور ماضی میں شاندار کارکردگی دکھا چکے ہیں۔ اگر وہ کسی فرنچائز کے مالک ہوتے تو دونوں کھلاڑیوں کو اپنی ٹیم میں ضرور شامل کرتے۔
پی ایس ایل سے باہر ہونے پر احمد شہزاد آبدیدہ، بیٹے کی خواہش نے دل توڑ دیا
سابق آل راؤنڈر نے وضاحت کی کہ ہر کھلاڑی کو سنبھالنے کا انداز مختلف ہوتا ہے اور ٹیم مینجمنٹ کو یہ سمجھنا ضروری ہے کہ حساس مزاج کھلاڑیوں کے ساتھ کس طرح کام کیا جائے تاکہ ان کی بہترین کارکردگی سامنے آئے۔ انہوں نے اپنے تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ باصلاحیت مگر حساس کھلاڑیوں کی رہنمائی ہی اعلیٰ سطح کی قیادت کا تقاضہ ہے۔
ادھر، دونوں کھلاڑیوں کے مداح بھی مایوسی کا اظہار کر رہے ہیں۔ احمد شہزاد ایک پروگرام میں آبدیدہ ہو گئے اور کہا کہ سابق ساتھیوں کو کھیلتے دیکھنا اور خود منتخب نہ ہونا انتہائی تکلیف دہ تھا۔ اسی طرح عمر اکمل کے بھائی کامران اکمل نے بھی پی سی بی پر ناراضی ظاہر کی ہے۔
پی ایس ایل کے 11ویں ایڈیشن میں پہلی بار 8 ٹیمیں شامل ہوں گی، جن میں نئی فرنچائزز حیدرآباد ہیوسٹن کنگز اور سیالکوٹ اسٹالینز بھی شامل ہیں۔ ٹورنامنٹ 26 مارچ سے 3 مئی 2026 تک جاری رہے گا۔
