تہران: Abbas Araghchi نے ایران کے سرکاری ٹی وی کے ایک انٹرویو میں کہا کہ کئی دنوں سے امریکی فریق نے مختلف ثالثوں کے ذریعے ایران کو پیغامات بھیجے ہیں۔
عراقچی کے مطابق یہ پیغامات دوستانہ ممالک کے ذریعے پہنچائے گئے، اور ایران نے اپنی پوزیشن واضح کرتے ہوئے جواب دیا اور ضروری انتباہات جاری کیے۔ ان کے الفاظ میں، یہ کوئی مکالمہ یا مذاکرات نہیں تھے، اور نہ ہی اس نوعیت کی کوئی بات چیت جاری ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایران کی موجودہ پالیسی دفاعی کارروائیوں کو جاری رکھنے کی ہے اور فی الحال مذاکرات کا کوئی ارادہ نہیں۔
عراقچی نے مزید کہا کہ موجودہ تنازعہ اسرائیل کی جنگ ہے، اور اس کی قیمت خطے کے عوام کے ساتھ ساتھ امریکی عوام بھی ادا کر رہے ہیں۔
امریکا کا ایران کو 15 نکاتی منصوبہ، جنگ بندی کے بدلے سخت شرائط سامنے آگئیں
