امریکا کا ایران کے گرد فوجی حصار مضبوط، بحری بیڑے اور فضائی طاقت خطے کی طرف روانہ

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

امریکا نے ایران کے قرب و جوار میں اپنی فوجی موجودگی بڑھانے کا فیصلہ کرلیا ہے اور اس مقصد کے تحت جنگی بحری جہازوں اور طیاروں پر مشتمل ایک بڑی فورس مشرقِ وسطیٰ کی جانب روانہ کردی گئی ہے۔

latest urdu news

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس پیش رفت کو احتیاطی اقدام قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن خطے میں ہونے والی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور حالات کے مطابق فیصلے کیے جائیں گے۔

ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے بتایا کہ امریکا کے متعدد جنگی جہاز ایران کے قریب تعیناتی کے لیے روانہ ہوچکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام کسی فوری جنگ کا اعلان نہیں بلکہ خطے میں بدلتی صورتحال کے پیشِ نظر حفاظتی نوعیت کا قدم ہے۔ صدر ٹرمپ کے مطابق، “ہم دیکھ رہے ہیں کہ آگے کیا ہوتا ہے، ہماری فورس صرف احتیاط کے طور پر تعینات کی جارہی ہے۔”

امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ ایران کی اندرونی اور بیرونی سرگرمیوں پر مسلسل نظر رکھی جارہی ہے۔ ان کے بقول، ایران کو ماضی میں بعض سخت اقدامات سے باز رہنے کی تنبیہ کی گئی تھی، اور امریکی موقف کے بعد ایران نے کچھ فیصلے واپس بھی لیے۔ تاہم ٹرمپ نے واضح کیا کہ اس وقت امریکا کی جانب سے کسی یقینی فوجی کارروائی کا فیصلہ نہیں کیا گیا۔

امریکا ایرانی سپریم لیڈر کو قتل کرے گا: سابق امریکی سفیر

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی حکام نے تصدیق کی ہے کہ ایک مکمل کیریئر اسٹرائیک گروپ پہلے ہی مشرقِ وسطیٰ کی سمت بڑھ چکا ہے۔ اس فورس میں جدید طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن، اس کے ساتھ موجود جنگی بحری جہاز، آبدوزیں اور لڑاکا طیارے شامل ہیں، جو کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا کی یہ فوجی نقل و حرکت ایران کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ واشنگٹن خطے میں طاقت کا توازن برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ دوسری جانب امریکی صدر اس بات پر بھی زور دے چکے ہیں کہ اگر ایران نے اپنے جوہری پروگرام کو دوبارہ فعال کرنے کی کوشش کی تو امریکا اس کا سخت جواب دے گا، تاہم فی الحال سفارتی اور احتیاطی راستہ اختیار کیا جارہا ہے۔

عالمی مبصرین کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کی تاریخ طویل ہے، اور حالیہ فوجی اقدامات خطے میں سیاسی درجہ حرارت بڑھا سکتے ہیں۔ ایسے میں دنیا کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا یہ فوجی تعیناتی محض دباؤ کی حکمتِ عملی ہے یا مستقبل میں کسی بڑے اقدام کا پیش خیمہ۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter