جہلم: محکمہ وائلڈ لائف نے بڑا کریک ڈاؤن کرتے ہوئے جہلم میں غیر قانونی طور پر رکھے گئے 23 شیر برآمد کر کے ایک ملزم گرفتار کر لیا۔
تفصیلات کے مطابق پنجاب میں محکمہ وائلڈ لائف حکام کی جانب سے غیر قانونی طور پر رکھے گئے جنگلی جانوروں کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن جاری ہے، جس کے دوران ایک ہی دن میں صوبے بھر سے 57 شیر برآمد کر کے 8 افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔
اس کارروائی میں ضلع جہلم بھی نمایاں رہا، جہاں ایک ہاؤسنگ سوسائٹی سے بڑی تعداد میں غیر قانونی طور پر رکھے گئے شیر برآمد کیے گئے۔
محکمہ وائلڈ لائف نے مختلف شہروں میں آپریشنز کرتے ہوئے غیر قانونی جانوروں کی خرید و فروخت اور نگہداشت کے خلاف کارروائیاں کیں، جن کے نتیجے میں ایک دن کے اندر متعدد شیر اور دیگر جانور تحویل میں لے لیے گئے۔
ترجمان محکمہ وائلڈ لائف کے مطابق یہ کارروائیاں گزشتہ روز پنجاب بھر میں غیر قانونی طور پر شیر رکھنے والے افراد کے خلاف کی گئیں۔ کارروائی کے دوران لاہور کے بیدیاں روڈ پر واقع ایک فارم ہاؤس سے 20 شیر، جہلم کی ایک ہاؤسنگ سوسائٹی سے 23 شیر اور ملتان کینٹ کے ایک فارم ہاؤس سے 9 شیر اور ایک بندر برآمد کیا گیا۔ اس دوران لاہور سے 4 جبکہ ملتان اور جہلم سے ایک ایک ملزم کو گرفتار کیا گیا۔
اسی طرح گوجرانوالہ کی ایک ہاؤسنگ سوسائٹی سے 3 شیر ضبط کیے گئے جبکہ سیالکوٹ کے گاؤں لوتھر میں ایک گھر سے 2 شیر تحویل میں لیے گئے، اور دونوں مقامات سے ایک ایک ملزم کو گرفتار کیا گیا۔
گوجر خان میں وائلڈ لائف کا چھاپہ، وڈیرے کے ڈیرے سے افریقی شیر برآمد
واضح رہے کہ قبل ازیں مریم نواز شریف نے صوبے بھر میں پالتو شیر اور دیگر جنگلی بلیوں کو رکھنے کی قانونی اجازت ختم کرنے کا بڑا فیصلہ کرتے ہوئے محکمہ وائلڈ لائف کو سخت کارروائی کی ہدایات جاری کی تھیں۔ یہ فیصلہ ڈھولا بریڈنگ فارم پر پیش آنے والے افسوسناک واقعے کے بعد کیا گیا تھا، جس میں ایک 8 سالہ بچے واجد کا بازو ضائع ہو گیا تھا۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے اس واقعے پر سخت نوٹس لیتے ہوئے ذمہ داران کے خلاف فوری اور سخت قانونی کارروائی کی ہدایت جاری کی، جس کے بعد صوبے بھر میں، بالخصوص جہلم سمیت مختلف اضلاع میں، غیر قانونی طور پر رکھے گئے شیروں کے خلاف بھرپور آپریشن دیکھنے میں آ رہا ہے۔
